کمیٹی نے گلاف II منصوبے کے تحت قائم کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ سینٹر (CBDRMC)، ارلی وارننگ سسٹم (EWS) اسٹیشن اور اون کی دستکاری سینٹر (Wool Processing Unit)کا معائنہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران نے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم کی سربراہی میں ضلع گانچھے خپلو براہ کا دورہ کیا، جہاں کمیٹی نے گلاف II منصوبے کے تحت قائم کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ سینٹر (CBDRMC)، ارلی وارننگ سسٹم (EWS) اسٹیشن اور اون کی دستکاری سینٹر (Wool Processing Unit)کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گانچھے نے کمیٹی کو گلاف۔II منصوبے کے تحت براہ میں قائم کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ سینٹر کے قیام، اس کی کارکردگی اور مقامی آبادی کے ساتھ اس کے اشتراک پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مرکز مقامی آبادی کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تربیت، آگاہی اور ابتدائی امداد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ کمیٹی کو یو این ڈی پی پاکستان کے انجینئر ایان الدین اور محکمہ موسمیات پاکستان کے نمائندہ فرخ بشیر نے خپلو براہ میں نصب واٹر ڈسچارج گیج اسٹیشن (EWS) کے تکنیکی پہلوؤں، فعالیت، اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات (GLOFs) کی پیشگی نشاندہی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

کمیٹی نے اسٹیشن کی افادیت کو  مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ چونکہ یہ اسٹیشن آبادی کے وسط میں واقع ہے، لہٰذا اس کے گرد حفاظتی باڑ کی بلندی، آلات کی حفاظت اور دیگر حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ نظام کا تسلسل برقرار رہے۔ بعد ازاں، کمیٹی نے اون کی دستکاری سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں مقامی خواتین کی تیار کردہ دستکاری مصنوعات اور خشک میوہ جات کا مشاہدہ کیا۔کمیٹی کے اراکین نے خواتین کی ہنرمندی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے جاری معاشی بااختیاری کے اقدامات کی تعریف کی اور حکام کو ہدایت جاری کی سینٹر میں بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے متبادل ذرائع سولر یا جنریٹر کی سہولت مہیا کی جائے۔ دورے کے اختتام پر کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ گلاف II منصوبے کے تحت قائم نظام کی مؤثر دیکھ بھال، مقامی سطح پر استعداد کار میں اضافہ اور بروقت وارننگ کے نظام کو یقینی بنایا جائے، تاکہ مقامی آبادی کو قدرتی آفات سے بروقت آگاہی اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کمیٹی نے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف