کیماڑی منوڑہ سے بابا بھٹ جانیوالی کشتی حادثے کا شکار، دو خواتین جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
ایس ایچ او تھانہ جیکسن نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ دو کشتیاں آپس میں ٹکرانے کے باعث پیش آیا ہے، ہمیں اطلاع ملی تھے کے دو کشتیاں آپس میں ٹکرائی ہیں اور دو خواتین جاں بحق ہوئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے کیماڑی منوڑہ سے بابا بھٹ شاہ جانے والے کشتی کا حادثے کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں دو خواتین جاں بحق ہوگئیں۔ ایس ایچ او جیکسن رانا خوشی محمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی فوری طور پر حادثے کی حتمی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا، تاہم کشتی حادثے میں مجموعی طور پر 20 سے زائد افراد زخمی اور دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی جناح اسپتال، سول اسپتال اور دو نجی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ایس ایچ او تھانہ جیکسن نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ دو کشتیاں آپس میں ٹکرانے کے باعث پیش آیا ہے، ہمیں اطلاع ملی تھے کے دو کشتیاں آپس میں ٹکرائی ہیں اور دو خواتین جاں بحق ہوئی ہیں، جن میں سے ایک لڑکی شناخت 16 سالہ سندس کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کیماڑی سے بابا بھٹ شاہ اور منوڑا گھومنے کیلئے آئے ہوئے تھے، جبکہ کوئی پائلٹ بوٹ ٹکرانے کے حوالے سے شواہد نہیں ملے ہیں، تاہم واقعے سے متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دو کشتیاں آپس میں دو خواتین جاں بحق بتایا کہ اور دو
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔