سعودی صنعتی ترقیاتی فنڈ کے زیر اہتمام انڈسٹری ہیکاتھون کے کا تربیتی کیمپ کل سے شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
سعودی صنعتی ترقیاتی فنڈ کے زیر اہتمام انڈسٹری ہیکاتھون کے چوتھے ایڈیشن کا تربیتی کیمپ جمعرات 23 اکتوبر سے شروع ہوگا جو ہفتے کے روز تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’بری پل‘ ریل منصوبہ: سعودی وژن 2030 کے اہداف میں اہم سنگ میل
اس کیمپ کا مقصد شرکا کو اپنی تخلیقی سوچ کو عملی اور جدید صنعتی حلوں میں تبدیل کرنے کے قابل بنانا ہے تاکہ مملکت کے صنعتی و اختراعی اہداف کو فروغ دیا جا سکے۔
تربیتی کیمپ میں 229 امیدوار 60 ٹیموں کی صورت میں حصہ لیں گے۔ اس سال کے ہیکاتھون میں 4 مرکزی موضوعات ڈیزائن، پیداوار، پائیداری اور خودکار نظام (آٹومیشن) شامل ہیں۔
کیمپ میں مینوفیکچرنگ لیب اور آئیڈیاز فیکٹری جیسے عملی سرگرمیاں بھی شامل ہیں جہاں شرکا اپنی تخلیقات کو آزما سکیں گے اور نئے ماڈلز تیار کریں گے۔
اس کے علاوہ متعدد ورکشاپس اور تربیتی سیشنز بھی ہوں گے جن کا مقصد ٹیم ورک اور اختراعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
ہیکاتھون کا فائنل مرحلہ ہفتہ 25 اکتوبر کو ہوگا جس میں فاتح ٹیموں کا اعلان اور انڈسٹری ہیکاتھون ایکسپو کا انعقاد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب کو 12 لاکھ پاکستانیوں کی ضرورت: کن شعبوں میں نوکریوں کے مواقع موجود ہیں؟
تقریب میں وزیر صنعت ومعدنی وسائل بندر بن ابراہیم الخریف خصوصی شرکت کریں گے۔ کل انعامات کی مالیت 17 لاکھ ریال سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے سالم الدوسری پھر ایشیا کے بہترین فٹبالر بن گئے
یہ پروگرام بینک الریاض، سپکیم، جامعہ شاہ عبداللہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور شہرہ آفاق ادارہ کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک اور کمپنی معادن کی پلاٹینم اسپانسرشپ کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈسٹری ہیکاتھون بینک الریاض جامعہ شاہ عبداللہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی سعودی صنعتی ترقیاتی فنڈ نگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بینک الریاض سعودی صنعتی ترقیاتی فنڈ
پڑھیں:
ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
اسلام آباد: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ اے آئی غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اگلی دہائی میں انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں لوگوں کو بے مثال وسائل، سہولیات اور ترقی کے امکانات میسر ہوں، جبکہ یہ ٹیکنالوجی عالمی تنازعات کے حل اور بہتر فیصلہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جیسے جیسے جدید اے آئی سسٹمز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ان کے غیر متوقع نتائج اور سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں، حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشترکہ مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔