پہلا پاکستانی جس نے سعودی ٹورزم انڈسٹری میں کمرشل رجسٹریشن حاصل کی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
سعودی عرب میں پاکستانی شہری کاشان سید نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے پہلی بار مملکت کی ٹورزم انڈسٹری کے تحت کمرشل رجسٹریشن حاصل کر کے نہ صرف اپنی ذاتی کامیابی کا جھنڈا گاڑا بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کر دیا۔
کاشان سید گزشتہ 20 سالوں سے سعودی عرب میں آف روڈنگ، ایڈونچر ٹورز اور نئے سیاحتی مقامات کی تلاش کے شوق کو پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب میں روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی جانب بڑا قدم، جدید لیبارٹری کا افتتاح
وہ مختلف قومیتوں برطانوی، امریکی، پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دیگر کو گروپوں کی صورت میں مملکت کے پوشیدہ قدرتی حسن اور صحرائی راستوں کی سیر کرواتے رہے۔
اب انہوں نے اپنے اسی شوق کو باضابطہ شکل دیتے ہوئے سعودی ٹورزم، ڈیر ٹو ڈسکور کے نام سے کمپنی رجسٹرڈ کرائی ہے۔
یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے سیاحتی اہداف کے عین مطابق ہے اور پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب میں ٹورزم کے شعبے میں نئے امکانات اور مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب سیاحت کمرشل کمپنی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیاحت
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔