جوائے فورم 2025 ریاض: تفریح، ٹیکنالوجی اور تخلیق کا عالمی سنگم
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ جوائے فورم 2025 میں دنیا بھر کی تفریح، میڈیا اور کھیلوں کی صنعتوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔
فورم میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل میڈیا، تفریحی شہروں کے مستقبل، اور بالی وڈ کے عالمی اثرات پر گفتگو ہوئی۔
سیشنز میں نیٹ فلکس، اسکائی اسپورٹس، NBC، DAZN، قدیہ، سی ورلڈ، سکس فلیگز اور روٹانا کے رہنماؤں سمیت بھارتی اداکار شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
شرکا نے کہا کہ سعودی عرب تیزی سے عالمی تفریحی اور کھیلوں کا مرکز بن رہا ہے، جب کہ قدیہ جیسے منصوبے تفریحی صنعت کا نیا عالمی معیار قائم کریں گے۔
اختتام پر جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سی ای او انجینئر فیصل بافارت نے اعلان کیا کہ جوائے فورم اگلے سال مزید بڑے پیمانے پر دوبارہ منعقد ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دارالحکومت ریاض سعودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دارالحکومت ریاض
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔