ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2025 سائنس و جنرل گروپ ریگولر اور پرائیویٹ کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ 

تفصیلات کے مطابق سائنس گروپ میں ایک لاکھ 77ہزار 660 طلباء و طالبات رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے ایک لاکھ 75ہزار 511طلباء وطالبات امتحانات میں شریک ہوئے، غیر حاضر طلباء و طالبات کی تعداد 2ہزار 149 رہی۔ 

تمام پرچوں میں کامیاب طلباء و طالبات کی تعدادایک لاکھ 37 ہزار 350 رہی، چھ پرچوں میں 18 ہزار 185، پانچ پرچوں میں 7ہزار 690، چار پرچوں میں 4 ہزار 398، تین پرچوں میں 2 ہزار 462، دو پرچوں میں 1 ہزار 338 اور ایک پرچے میں 1 ہزار 375امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، کامیابی کا تناسب 78.

26 فیصد رہا۔ 

اسی طرح جنرل گروپ ریگولر اور پرائیویٹ میں میں 15 ہزار 954 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی، 14 ہزار 984 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جبکہ 970 امیدوار غیر حاضر رہے۔  

جنرل گروپ ریگولر میں 5 پرچوں میں 5 ہزار 886، چھ پرچوں میں 2 ہزار 204، پانچ پرچوں میں 986، چار پرچوں میں 512، تین پرچوں میں 292، دو پرچوں میں 166 اور ایک پرچے میں 148 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی اور کامیابی کا تناسب57.17 فیصد رہا۔ 

علاوہ ازیں پرائیویٹ جنرل گروپ میں 5 ہزار 46 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی، 4 ہزار 689 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جبکہ 357 امیدوار غیر حاضر رہے۔ 

پرائیویٹ جنرل گروپ کے ساتوں پرچوں میں 2 ہزار 263، چھ پرچوں میں 1 ہزار 126، پانچ پرچوں میں 539، چار پرچوں میں 309، تین پرچوں میں 166، دو پرچوں میں 90 اور ایک پرچے میں 114امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔

پرائیویٹ جنرل گروپ میں بھی ساتوں پرچوں میں کامیابی کا تناسب 48.26 فیصد رہا۔ جنرل گروپ ریگولر اور پرائیویٹ میں کامیابی کا تناسب 54.38 فیصد رہا۔

 نتائج بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ www.bsek.edu.pk پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کامیابی کا پرچوں میں فیصد رہا

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ