کراچی : نویں جماعت کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی آن لائن سسٹم بیٹھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : میٹرک بورڈ کراچی نے نویں جماعت کے سائنس اور جنرل گروپ (ریگولر و پرائیوٹ) کے سالانہ امتحانات برائے 2025 کے نتائج جاری کردیے تاہم آن لائن سسٹم کی خرابی کی وجہ سے ہزاروں طلبا ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔
میٹرک بورڈ کی جانب سے امتحانی نتائج کا اعلان بدھ کی سہ پہر کیا گیا جبکہ نتائج کو 4 بجےتک ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہونا تھا۔
سیکنڈری بورڈ کی ویب سائٹ نہ چلنے کی وجہ سے طلبا دہری اذیت کا شکار ہوئے اور وہ 6 گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود بھی اپنا رزلٹ نہیں دیکھ سکے۔
سال 2025 کے امتحانات میں سائنس گروپ میں 1 لاکھ 77 ہزار سے زائد طلبا نے شرکت کی جبکہ کامیابی کا تناسب 78 فیصد سے زائد رہا اور 1 لاکھ 33 ہزار طلبا تمام 7 پرچوں میں پاس ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔