ٹرمپ کی نئی پالیسی پر اختلاف، درجنوں صحافیوں نے پینٹاگون کے دفاتر خالی کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
واشنگٹن: امریکا میں 30 سے زائد معروف نیوز اداروں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، درجنوں صحافیوں نے محکمہ دفاع کے اندر اپنے دفاتر خالی کر دیے، جس کے بعد پریس ایریا تقریباً سنسان ہوگیا ہے۔
پینٹاگون پریس ایسوسی ایشن نے اس اقدام کو "آزادی صحافت پر سیاہ دن" قرار دیا ہے۔ میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی آزادانہ رپورٹنگ کے لیے خطرہ اور آئینی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، پینٹاگون نے صحافیوں کو حساس معلومات شائع نہ کرنے کا حلف نامہ جمع کرانے کا پابند کیا تھا، تاہم تنقید کے بعد لفظ "حلف" کو "Acknowledge" سے بدل دیا گیا۔
امریکی چینلز اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، این بی سی، اور فاکس نیوز نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جو سی این این کمیونیکیشن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ نئے ضوابط صحافیوں کی آزادی کو محدود کرتے ہیں اور وہ عوام کو قومی سلامتی سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں گے۔
دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ نئی پالیسی کا مقصد قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ میڈیا پر قدغن لگانا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔