Jasarat News:
2026-06-03@08:13:12 GMT

ایم آر-ٹو ٹینکر کی خریداری معاہدے پر دستخط کردئیے

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

ایم آر-ٹو ٹینکر کی خریداری معاہدے پر دستخط کردئیے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس پورٹر)پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی مکمل ذیلی کمپنی کوئٹہ شپنگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے ایک ایم آر-ٹو کلاس ٹینکر جہاز کی خریداری کے لیے میمورنڈم آف ایگریمنٹ (ایم او اے) پر دستخط کیے ہیں۔بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائے گئے نوٹیفکیشن میں پی این ایس سی نے بتایا کہ جہاز ایم ٹی اسٹاونگر پوسائیڈن کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی ڈیڈ ویٹ ٹنیج (ڈی ڈبلیو ٹی) 50,000 ٹن ہے۔چند روز قبل پی این ایس سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 193.

115 ملین ڈالر مالیت کے تین جہاز خریدنے کی منظوری دی تھی تاکہ 2026 تک قومی بیڑے کی تعداد 30 تک پہنچائی جا سکے۔بورڈ نے تین جہازوں کی خریداری کی منظوری دی ایم ٹی لوریکس ، جسے بعد ازاں ایم ٹی کراچی کے نام سے منسوب کیا جائے گا، 74.5 ملین ڈالر میں؛ ایم ٹی نافسیکا ، جسے ایم ٹی لاہور کے نام سے منسوب کیا جائے گا، اسی مالیت 74.5 ملین ڈالر میں؛ اور ایم ٹی اسٹاونگر پوسائیڈن، جسے ایم ٹی کوئٹہ کے نام سے منسوب کیا جائے گا، 44.15 ملین ڈالر میں۔پہلے دو جہاز افرامیکس ٹینکر ہیں، جبکہ تیسرا جہاز ایم آر-2 کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔مزید برآں، پی این ایس سی نے 12 اضافی جہازوں کی خریداری کے عمل کا آغاز بھی کر دیا ہے، جن میں چار ایل آر-2 ، چار ایم آر-2 ، اور چار ایم آر-1 کلاس جہاز شامل ہیں۔ کارپوریشن اس وقت موصول ہونے والی بولیوں کا جائزہ لے رہی ہے اور تکنیکی جانچ کا عمل جاری ہے، جو بیڑے میں توسیع کے اپنے وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی خریداری ملین ڈالر ایم ا ر ایم ٹی

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ