Islam Times:
2026-07-24@07:04:13 GMT

ایران جوہری معاہدہ (JCPOA) ایک خلاصہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

ایران جوہری معاہدہ (JCPOA) ایک خلاصہ

اسلام ٹائمز: بارہ روزہ جنگ کے دوران امریکہ کے ایران کے ایٹمی پلانٹ نطنز اور فردو پر حملوں کو دیکھا جائے تو واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ برجام معاہدہ ایران کے ایٹمی پلانٹ کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ برجام معاہدے کی شرائط تھیں کہ افزودگی نطنز میں ہوگی، فردو میں کام معطل کر دیا جائے گا، عالمی ایٹمی ایجنسی ان سب امور کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی۔ امریکا اور اسرائیل کے پاس ایران کے ایٹمی پلانٹ اور سائنسدانوں کے حوالے سے درست معلومات تھیں، جو عالمی ایٹمی ایجنسی نے نگرانی کے دوران جمع کیں۔ تحریر: سید اسد عباس

JCPOA جسے فارسی میں برجام بھی کہا جاتا ہے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں ایران پر عائد تجارتی اور اقتصادی پابندیوں میں کمی کا  معاہدہ تھا، جو 14 جولائی 2015ء کو ویانا میں ایران اور P5+1 ممالک (اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین چین، فرانس، روس، برطانیہ، امریکہ اور جرمنی) کے درمیان یورپی یونین کے ساتھ مل کر طے پایا۔ معاہدے کی باقاعدہ بات چیت کا آغاز نومبر 2013ء میں ایران اور P5+1 ممالک کے درمیان ایک عبوری معاہدے، جوائنٹ پلان آف ایکشن پر دستخط سے ہوا۔ اگلے 20 مہینوں تک مذاکرات جاری رہے، جس کے نتیجے میں اپریل 2015ء میں ایران جوہری معاہدے کا فریم ورک طے پایا اور بالآخر JCPOA اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایک روڈ میپ معاہدہ ہوا۔ برجام، عالمی ایٹمی ایجنسی کے روڈ میپ نیز ایران کے عمل درآمد کے آغاز کی توثیق کے بعد جنوری 2016ء کو نافذ ہوا۔ JCPOA کے تحت، ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو نمایاں طور پر محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاکہ ہتھیاروں کے درجے کا یورینیم یا پلوٹونیم تیار کرنے کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔

ایران نے اس معاہدے میں جو پابندیاں قبول کیں، درج ذیل تھیں: ایران 15 سال کی مدت میں اپنے کم افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو 10,000کلو گرام سے 300 کلو گرام تک کم کرے گا۔ افزودگی کی سطح کو 3.

67 فیصد تک محدود کیا جائے گا، 5 فیصد اور 20 فیصد کے درمیان افزودہ شدہ یورینیم کو پگھلا دیا جائے گا، بیچا جائے گا یا تہران ریسرچ ری ایکٹر کے لیے ایندھن کی پلیٹوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق 10 سال کی مدت میں، ایران اپنے فعال سینٹری فیوجز کو 6,104 تک کم کرے گا، جن میں سے صرف 5,060 کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ افزودگی صرف نطنز پلانٹ تک محدود ہوگی اور صرف ایران کے پرانے اور کم کارگر IR-1 سینٹری فیوجز استعمال کیے جائیں گے۔ جدید سینٹری فیوجز کو گوداموں میں محفوظ کیا جائے گا اور IAEA کی نگرانی میں رکھا جائے گا۔ اراک ہیوی واٹر ریسرچ ری ایکٹر کو جدید بنایا جائے گا، تاکہ یہ 20 میگا واٹ تک محدود رہے، جس سے پلوٹونیم کی پیداوار کم ہو اور ہتھیاروں کے درجے کا پلوٹونیم حاصل نہ ہوسکے۔ استعمال شدہ ایندھن ملک سے باہر بھیجا جائے گا۔ فردو پلانٹ 15 سال تک یورینیم کی تحقیق اور افزودگی روک دے گا۔ اسے جوہری فزکس اور ٹیکنالوجی سینٹر میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں چھ میں سے صرف دو سینٹری فیوجز مستحکم ریڈیو آئسوٹوپس کی پیداوار کے لیے استعمال ہوں گے۔

ایران نے معاہدے کے مطابق اپنے جوہری ایندھن سے متعلق سرگرمیوں کے لیے IAEA کے زیادہ سخت نگرانی کو قبول کیا۔ IAEA کو نطنز اور فردو جیسی جوہری تنصیبات تک 24 گھنٹے رسائی اور مسلسل نگرانی حاصل ہوئی۔ ایک جامع معائنہ نظام لاگو کیا گیا، جس میں ایڈیشنل پروٹوکول کا عارضی نفاذ شامل تھا۔ معاہدے کے مطابق IAEA کو ایران کی پوری جوہری سپلائی چین کی نگرانی کا حق حاصل تھا۔ ان وعدوں اور ان پر عمل کے بدلے میں، ایران کو اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے عائد ایٹمی پابندیوں سے ریلیف ملنا تھا۔ ریلیف کے نتیجے میں ایران کو بیرون ملک منجمد اپنے تقریباً 100 بلین ڈالر کے اثاثے حاصل کرنے کا موقع ملا، تاہم امریکہ کی غیر جوہری پابندیاں جیسے میزائل پروگرام، دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عائد پابندیاں برقرار رہیں، جس سے ریلیف کا اقتصادی اثر محدود ہوا۔

اگر دیکھا جائے تو برجام معاہدہ ایٹمی عدمِ پھیلاؤ کے معاملات کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ تھا۔ یہ معاہدہ  159 صفحات پر مشتمل تھا، جس میں پانچ ضمیمے شامل تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلی بار کسی ترقی پذیر ملک کے جوہری افزودگی پروگرام کو تسلیم کیا اور ایک قرارداد (2231) کے فریم ورک کے اندر کثیر القومی معاہدے کی حمایت کی۔ معاہدے میں "اسنیپ بیک" طریقہ کار بھی شامل تھا، جس کے تحت اگر ایران معاہدے کی نمایاں طور پر خلاف ورزی کرتا ہے تو P5+1 ممالک میں سے کوئی بھی یکطرفہ طور پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کو خودکار طور پر دوبارہ نافذ کرسکتا ہے۔ 2018ء ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار میں امریکہ یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے نکل گیا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اگرچہ ایران حکومت کی جانب سے معاہدے میں قبول کردہ پابندیوں سے اختلاف رکھتے تھے، تاہم امریکا کے انخلاء کے بعد انھوں نے یورپ کو JCPOA کو جاری رکھنے کے لیے سات شرائط پیش کیں۔

ان میں سب سے اہم یہ تھی کہ یورپی طاقتیں ایرانی بینکوں کے ساتھ کاروباری تعلقات کو برقرار رکھنے اور ایرانی تیل کی خریداری کے لیے اقدامات کریں۔ اسی طرح ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ یورپ نے  برجام معاہدے کو بچانے یا امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے، 7 اگست 2018ء کو "بلاکنگ اسٹیٹیوٹ" نافذ کیا، تاکہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو امریکی پابندیوں سے بچایا جا سکے، تاہم امریکی پابندیاں نافذ ہوئیں اور ایران کو وہ اقتصادی و تجارتی فوائد حاصل نہ ہوسکے جو کہ برجام معاہدے کے تحت طے پائے تھے۔ جواب میں ایران نے دوسرے ممالک کو اضافی افزودہ یورینیم اور ہیوی واٹر کی فروخت روک دی اور دھمکی دی کہ اگر دیگر فریق اسے JCPOA کے اقتصادی فوائد سے مستفید ہونے کی اجازت نہیں دیتے تو وہ 3.67 فیصد سے زیادہ افزودگی دوبارہ شروع کر دے گا۔ برجام معاہدے میں درج اقتصادی فوائد کے حصول میں رکاوٹوں اور مشکلات کے سبب یکم جولائی 2019ء کو، ایران نے اعلان کیا کہ اس نے کم افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی حد کو توڑ دیا ہے، جس کی IAEA نے تصدیق کی۔

5 نومبر 2019ء کو ایران نے فردو ایٹمی پلانٹ میں 5 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کا اعلان ان الفاظ میں کیا کہ اس کے پاس پہلے ہی 20 فیصد تک افزودگی کی صلاحیت موجود ہے۔ 5 جنوری 2020ء کو، ایران نے اعلان کیا کہ وہ مزید معاہدے کی حدود پر عمل نہیں کرے گا، لیکن IAEA کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ بائیڈن دور اقتدار میں ایران اور امریکا میں مختلف ذرائع سے برجام کو دوبارہ نافذ کرنے کے حوالے سے مذاکرات ہوتے رہے، ایران کی پارلیمان نے بھی سابق صدر ایران رئیسی کو برجام معاہدہ کے دوبارہ نفاذ پر عمل درآمد کرنے کا کہا، تاہم ایسا نہ ہوسکا۔ برجام معاہدہ دس برس کی مدت کے لیے تھا، اس کے اختتام کی تاریخ 18 اکتوبر 2025ء مقرر تھی۔ اس روز سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے خاتمے کا دن تھا، یعنی اب کوئی ملک اسنیپ بیک یا یکطرفہ پابندیاں از سر نو لاگو نہیں کرسکتا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یورپی ٹرائکا یعنی برطانیہ، جرمنی اور فرانس پہلے ہی اسنیپ بیک کے لیے درخواست کرچکے تھے۔ امید تو یہی ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ سے لاگو کر دی جائیں گی۔ فروری 2025ء میں سپریم لیڈر ایران آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری معاہدے (JCPOA) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم نے ضرورت سے زیادہ نرمی دکھائی، جبکہ امریکہ نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور آخرکار معاہدے سے نکل گیا۔ ان کے مطابق JCPOA نے ایران پر سنیپ بیک کی صورت میں خطرے کی تلوار کو لٹکائے رکھا۔ سپریم لیڈر نے کہا کہ ایسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا نہ دانائی ہے، نہ عقلمندی، نہ ہی باعث عزت۔ ایران کے اصول پسند قائدین اور گروہ ابتداء سے ہی برجام معاہدے کے خلاف تھے۔ میرے علم کے مطابق ان کی مخالفت کی وجہ معاہدے کا کوئی تکنیکی پہلو یا سقم نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ پر عدم اعتماد تھا۔ اس کے باوجود ایرانی پارلیمان اور اعلیٰ قیادت نے اس معاہدے کو قبول کیا اور اس پر ریاستی سطح پر عملدرآمد کا آغاز بھی ہوا۔

معاہدے میں یہ سقم ابتداء سے موجود تھا کہ تمام شرائط اور پابندیاں ایران کے لیے تھیں، دیگر ممالک فقط شرائط کے پورے ہونے کی صورت میں پابندیاں ہٹانے کے ذمہ دار تھے۔ برجام میں کسی پارٹی بالخصوص امریکا اور یورپ کو پابند نہیں کیا گیا تھا کہ ایک مرتبہ دستخط کی صورت میں وہ معاہدے کو مکمل کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی سبب امریکا دستخط کرنے کے باوجود برجام سے نکل گیا اور ایران پر پابندیاں نافذ کر دیں۔ یورپ امریکی پابندیوں کے مقابل گھٹنے ٹیک گیا اور ایران کو برجام کے وہ فوائد حاصل نہ ہوسکے، جو اصل معاہدے میں درج تھے۔ بارہ روزہ جنگ کے دوران امریکہ کے ایران کے ایٹمی پلانٹ نطنز اور فردو پر حملوں کو دیکھا  جائے تو واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ برجام معاہدہ ایران کے ایٹمی پلانٹ کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ برجام معاہدے کی شرائط تھیں کہ افزودگی نطنز میں ہوگی، فردو میں کام معطل کر دیا جائے گا، عالمی ایٹمی ایجنسی ان سب امور کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی۔ امریکا اور اسرائیل کے پاس ایران کے ایٹمی پلانٹ اور سائنسدانوں کے حوالے سے درست معلومات تھیں، جو عالمی ایٹمی ایجنسی نے نگرانی کے دوران جمع کیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عالمی ایٹمی ایجنسی اقوام متحدہ کی سینٹری فیوجز برجام معاہدہ برجام معاہدے کی پابندیوں کیا جائے گا معاہدے میں معاہدے کے اور ایران معاہدے کی میں ایران ایران کو ایران پر کے دوران کے مطابق ایران نے کے ساتھ کرنے کے کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل