بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ مضبوط رہا جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 282 روپے 10 پیسے پر مستحکم رہی۔
معاشی استحکام اور شعبہ جاتی سطح پر غیرملکی سرمایہ کاری کے رجحانات کی بدولت انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بہتر رہی۔ حکومت کی نجکاری کی حکمت عملی، معاشی اصلاحات، مستحکم افراط زر اور مضبوط ترسیلات زر کے باعث معیشت کی شرح نمو 3.

2 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کے اثرات انٹربینک مارکیٹ میں واضح نظر آئے۔
کاروبار کے دوران ڈالر کی قدر 13 پیسے کمی کے ساتھ ایک موقع پر 280 روپے 93 پیسے تک گر گئی، تاہم غیرملکی کمپنیوں کی جانب سے اپنے ہیڈکوارٹرز کو منافع کی منتقلی کے باعث دن کے اختتام پر ڈالر کی قیمت معمولی کمی کے ساتھ 281 روپے 5 پیسے پر بند ہوئی۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 282 روپے 10 پیسے پر برقرار رہی۔
مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان میں کام کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کی جانب سے اپنے ہیڈکوارٹرز کو منافع کی منتقلی میں 85 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ملک کی معاشی مضبوطی کا مظہر ہے۔
مزید برآں، ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 11 کروڑ ڈالر کے سرپلس کی طرف گیا، جس اور دیگر مثبت عوامل کی وجہ سے انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی مضبوطی دیکھی گئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ