بہار الیکشن: مودی کو سخت مقابلے کا سامنا، عوام بے روزگاری اور ووٹر فہرستوں پر سراپا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے سیاسی اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) کو ریاست بہار کے آئندہ انتخابات میں سخت چیلنج درپیش ہے، جہاں نوجوانوں میں بے روزگاری اور ووٹر فہرستوں پر عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بہار بھارت کی تیسری سب سے زیادہ آبادی والی اور غریب ریاست ہے۔ تازہ سروے کے مطابق این ڈی اے کو اپوزیشن اتحاد پر صرف 1.
مزید پڑھیں: مودی راج کا ووٹر وار: بہار میں مسلم ووٹرز کا منظم اخراج، جمہوری حق کی سنگین خلاف ورزی
ریاست میں ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کی شکایات بھی بڑھ رہی ہیں۔ ایک 85 سالہ خاتون جتنی دیوی نے بتایا کہ ’مجھے ووٹر فہرست میں مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔‘
دوسری جانب نوجوان ووٹرز روزگار کے مواقع کی کمی پر برہم ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح اگرچہ کم ہوکر 9.9 فیصد رہ گئی ہے، مگر تشویش اب بھی موجود ہے۔
انتخابات 6 اور 11 نومبر کو ہوں گے اور نتائج 14 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
NDA بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بہار الیکشن ریاست بہار مودی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بہار الیکشن ریاست بہار
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔