وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جب کہ مارکیٹ کمیٹی کے جاری کردہ نرخ نامے اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی قیمتوں میں نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فروری میں کن اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں اور کن کی زیادہ؟ اعدادوشمار جاری

اسلام آباد مارکیٹ کمیٹی کے مطابق ٹماٹر کی زیادہ سے زیادہ قیمت 170 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہےتاہم شہر کے مختلف بازاروں میں ٹماٹر 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں۔

اسی طرح اعلی میعار کے سیب کی سرکاری قیمت 297 روپے فی کلو ہے مگر مارکیٹ میں یہ 500 سے 450 روپے فی کلو تک دستیاب ہیں۔

وی نیوز نے اسلام آباد کی مارکیٹ کا دورہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ پھل اور سبزی مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامے کے مطابق کیوں دستیاب نہیں ہیں؟

پھل فروشوں کے مطابق ان کو منڈی سے ہی یہ اجناس سرکاری نرخ پر نہیں ملتیں۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ جب ہمیں ہی ٹماٹر 170 روپے میں کہیں سے نہیں ملتا تو ہم اسے اسی ریٹ پر کیسے بیچ سکتے ہیں۔

پاکستان کے کسی کونے میں بھی ٹماٹر 170 روپے فی کلو میں دستیاب نہیں ہیں اس وقت منڈی میں بھی ٹماٹروں کا ریٹ 400 روپے فی کلو تک ہے۔

وی نیوز نے اسلام آباد مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین ساجد عباسی سے رابطہ کیا کہ اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کس بنیاد پر ریٹ لسٹ جاری کی جاتی ہے؟ جس پر ساجد عباسی نے بتایا کہ ہر شام اسلام آباد مارکیٹ میں نیلامی کے بعد اوسط نرخ نکال کر معمولی منافع کے ساتھ ریٹ لسٹ جاری کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے: ماہ رمضان میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں حکومت کتنی کامیاب ہوئی؟

ان نرخوں پر عمل درآمد کرانا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ دورے کر کے دیکھتی ہے کہ کہاں سرکاری نرخ نامے پر عمل نہیں ہو رہا اور مہنگی اشیا فروخت کرنے والوں کو جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔

گزشتہ ہفتے شہریوں کی شکایات پر اسسٹنٹ کمشنر صدر کی جانب سے سبزی منڈی کا دورہ کیا گیا۔ دورانِ انسپیکشن مہنگے داموں سبزی و پھل فروخت کرنے اور نرخ نامہ آویزاں نہ کرنے پر 12 دکانداروں کو حوالات منتقل کر دیا گیا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے اتوار بازاروں اور م میں سرکاری نرخ نامے پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی ٹیموں نے تمام بازاروں کا دورہ کیا ہے اور جرمانے بھی کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایرانی سرحد کی بندش سے بلوچستان میں ایرانی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خریداری کے وقت ہمیشہ سرکاری نرخ نامے کے مطابق قیمت ادا کریں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری شکایت درج کرائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اتوار بازار اسلام اباد ریٹ لسٹ سبزی منڈی سبزی و پھل کی قیمتیں مارکیٹ کمیٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتوار بازار اسلام اباد ریٹ لسٹ سبزی منڈی سبزی و پھل کی قیمتیں مارکیٹ کمیٹی مارکیٹ کمیٹی کے روپے فی کلو اسلام آباد سرکاری نرخ کے مطابق

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف