Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:30:11 GMT

اوپن اے آئی نے اے آئی براؤزر ’اٹلس‘ متعارف کرا دیا

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

اوپن اے آئی نے اے آئی براؤزر ’اٹلس‘ متعارف کرا دیا

اوپن اے آئی کے سی ای او سم آلٹمین نے آج چیٹ جی پی ٹی اٹلس کے نام سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والا ویب براؤزر لانچ کر دیا جس کا مقصد مارکیٹ میں گوگل کروم کی بالادستی کو کمزور یا ختم کرنا ہے۔

اوپن اے آئی کے چیف سم آلٹمین نے لائیو پریزنٹیشن میں کہا ہے کہ یہ چیٹ جی پی ٹی پر مبنی ایک اے آئی پاورڈ ویب براؤزر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ براؤزر اب ایپل کے آپریٹنگ سسٹم میک اوس پر عالمی سطح پر دستیاب ہے اور یہ جلد ہی ونڈوز، آئی او ایس اور اینڈرائیڈ پر بھی دستیاب ہو گا۔

اس نئے براؤزر کی لانچ کے بعد کروم براؤزر کی مالک کمپنی الفابیٹ کے حصص آج دوپہر کی ٹریڈنگ میں 2.

6 فیصد نیچے گر گئے۔

یہ پروڈکٹ تیزی سے بڑھتی ہوئی اے آئی براؤزر مارکیٹ میں تازہ ترین اضافہ ہے، جس میں پرپلیکسیٹی کا کامیٹ اور اوپیرا کا نیون شامل ہیں، کیونکہ کمپنیاں ایسے ٹولز شامل کر رہی ہیں جو ویب پیجز کا خلاصہ کر سکتے ہوں، فارمز پُر کر سکتے ہوں اور کوڈ ڈرافٹ کر سکتے ہوں تاکہ صارفین کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔

اٹلس براؤزر صارفین کو کسی بھی ونڈو میں ایک چیٹ جی پی ٹی سائیڈ بار کھولنے کی سہولت دیتا ہے تاکہ وہ کسی بھی سائٹ سے مواد کا خلاصہ بنا سکیں، مصنوعات کا موازنہ کر سکیں یا ڈیٹا کا تجزیہ کر سکیں۔

اٹلس کا ’ایجنٹ موڈ‘ چیٹ جی پی ٹی صارف کی جانب سے ویب سائٹس کے ساتھ تعامل کرتا ہے، صارفین شروع سے آخر تک کام کرنے کے لیے اسے استعمال کر سکتے ہیں، جیسے کہ کسی سفر کے لیے تحقیق اور خریداری کرنا وغیرہ۔

رائٹرز نے جولائی میں رپورٹ کیا تھا کہ مائیکروسافٹ کی معاونت یافتہ یہ اے آئی اسٹارٹ اپ ایک ایسے اے آئی پاورڈ براؤزر کے اجراء کے قریب ہے جو گوگل کروم کے مارکیٹ میں غلبے کو چیلنج کرے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی کر سکتے براو زر اے ا ئی

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس