اوپن اے آئی نے منگل کے روز چیٹ جی پی ٹی ایٹلس کے نام سے ایک نیا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ویب براؤزر متعارف کرایا oy، جو کمپنی کے مشہور چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے گرد ڈیزائن کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کو گوگل کروم کی مارکیٹ میں اجارہ داری کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے ایک آن لائن پریزنٹیشن میں بتایا ہے کہ یہ ایک اے آئی پاورڈ ویب براؤزر ہے جو چیٹ جی پی ٹی کے گرد تشکیل دیا گیا ہے۔

ایٹلس براؤزر فی الحال دنیا بھر میں ایپل کے میک او ایس پر دستیاب ہے، جب کہ کمپنی کے مطابق یہ جلد ہی ونڈوز، آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔

اوپن اے آئی کے اس اعلان کے بعد گوگل کروم کے مالک ادارے الفابیٹ کے شیئرز دوپہر کے تجارتی سیشن میں 2.

6 فیصد گر گئے۔

یہ براؤزر تیزی سے بڑھتی ہوئی اے آئی براؤزر مارکیٹ میں ایک نیا اضافہ ہے، جس میں پہلے ہی پرپلکسیٹی کا کومیٹ اور اوپیرا کا نیون، جیسی پروڈکٹس موجود ہیں۔

ان سب میں ایسے فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں جو ویب پیجز کا خلاصہ بناتے ہیں، فارم بھرتے ہیں، یا کوڈ تیار کرتے ہیں تاکہ صارفین کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

ایٹلس صارفین کو کسی بھی ویب پیج کے ساتھ چیٹ جی پی ٹی کی سائیڈ بار کھولنے کی اجازت دیتا ہے، جہاں وہ مواد کا خلاصہ حاصل کر سکتے ہیں، مصنوعات کا موازنہ کر سکتے ہیں یا کسی بھی ویب سائٹ کے ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ ایجنٹ موڈ میں چیٹ جی پی ٹی صارف کی جانب سے ویب سائٹس کے ساتھ براہ راست تعامل کرتا ہے مثلاً کوئی صارف مکمل تحقیق یا سفر کی خریداری جیسے کام ایک ہی جگہ انجام دے سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوپن اے آئی اوپیرا چیٹ جی پی ٹی گوگل کروم مصنوعی ذہانت ویب براؤزر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی اوپیرا چیٹ جی پی ٹی گوگل کروم مصنوعی ذہانت ویب براؤزر چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی ویب براؤزر گوگل کروم

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار