data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(بزنس رپورٹر) بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن (آئی ایف سی) نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے تعاون سے کراچی میںESG) (پاکستان پروجیکٹ کے تحت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ دوسرا مشاورتی اجلاس کیا۔اس اجلاس کا مقصد پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کو مضبوط بنانا اور اسے بین الاقوامی ماحولیاتی، سماجی، اور گورننس (ESG) معیارات کے مطابق ہم آہنگ کرنا تھا تاکہ وہ سرمایہ کاری کے لیے مزید تیار ہو سکے۔اس اجلاس میں کیپٹل مارکیٹ کے اداروں، کارپوریٹ شعبے اور پیشہ وراداروں کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔یہ اجلاس جولائی 2025 میں (ESG)پاکستان پروجیکٹ کے آغاز پر شروع کی گئی پائیدار کاروباری طریقہ کار سے متعلق بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے منعقد کیا گیاہے۔ اپنے خطاب میں ایس ای سی پی کے چیئرمین جناب عاکف سعید نے آئی ایف سی کے ساتھ ایس ای سی پی کے شراکتی عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ایس ای سی پی پائیدار ترقی اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے آئی ایف سی کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہماری (ESG)اصلاحات، جو مرحلہ وار اور اشتراکی انداز میں نافذ کی جا رہی ہیں، بین الاقوامی سطح پر بہترین عملی نمونوں کے طور پر تسلیم کی جا رہی ہیں۔‘‘ ای ایس جی ریگولیٹری روڈ میپ، ڈسکلوزر گائیڈلائنز، اور ای ایس جی سسٹین پورٹل کے ذریعے، ہم کارپوریٹ تیاری کو بڑھاتے ہوئے اور آب و ہوا سے منسلک سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہوئے مارکیٹ کے طریقوں میں پائیداری اور جوابدہی کو شامل کر رہے ہیں۔ مزید برآں، ہمارے حالیہ ESG سروے کا حوصلہ افزا ردعمل ہمیں سیکٹرل چیلنجز کی نشاندہی کرنے اور پالیسیوں کو تشکیل دینے میں مزید مدد کرے گا تاکہ پاکستان کی شفاف، لچکدار اور پائیدار ماحولیاتی نظام کی طرف منتقلی میں مدد ملے۔محترمہ زنی محتشم، پرنسپل انویسٹمنٹ آفیسر آئی ایف سی، نے کہا کہ ای ایس جی طریقہ کار کو اپنانا اب اْن کاروباری اداروں کے لیے ایک نہایت اہم ترجیح بن چکا ہے جو اپنی ساکھ کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایایس جی پروجیکٹ، جو ایس ای سی پی کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے اور برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (FCDO) اور فیسلٹی فار انویسٹمنٹ کلائمیٹ ایڈوائزری (FIAS) کی معاونت حاصل ہے، کا مقصد ESG پر مبنی ریگولیٹری فریم ورک کے نفاذ میں تیزی لانا ہے۔ FCDO کے نمائندے جناب نعمان روزن بام نے اس بات پر زور دیا کہ ESGسے مطابقت رکھنے والی اصلاحات کو مضبوط بنانا مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرنے اور پاکستان میں پائیدار نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔آئی ایف سی کے جناب محسن علی کی زیرِ صدارت ایک پینل گفتگو میں ایس ای سی پی، انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان(ICAP)، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس (PICG)، بینکاری شعبے اور پائیداری کے ماہرین کے نمائندے شامل تھے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس ای سی پی کے سرمایہ کاری ا ئی ایف سی ایس جی کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت