ٹماٹر عوام کی پہنچ سے دور، قیمت میں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
ملک بھر میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، بڑے شہروں میں قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
جہلم میں ٹماٹر کی قیمت 100 روپے سے بڑھ کر 700 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے اسے خریدنا مشکل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ کھانوں میں ٹماٹر کا استعمال کم کرنے پر مجبور ہیں۔
گوجرانوالہ میں ٹماٹر 575 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جس کا ذمہ دار حالیہ سیلاب کے اثرات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 500 روپے تک پہنچ گئی۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ سپلائی میں نمایاں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے ہول سیل مارکیٹ کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے۔
فیصل آباد میں ٹماٹر کی قیمت 500 روپے فی کلو، ملتان میں 450 روپے فی کلو جب کہ لاہور میں 400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جو کہ حکومت کی مقرر کردہ قیمت 175 روپے سے کہیں زیادہ ہے۔
شہریوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کوئٹہ میں ٹماٹر 300 سے 350 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں جس سے یہ بہت سے شہریوں کی پہنچ سے دور ہو گئے ہیں۔
ترجمان محکمہ پرائس کنٹرول کے مطابق ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ وقتی ہے، آئندہ ہفتے سپلائی معمول پر آتے ہی قیمت میں کمی متوقع ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے وہ خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں۔
پشاور میں حکومت کی جانب سے قیمت 320 روپے مقرر ہونے کے باوجود ٹماٹر 450 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہے ہیں۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے بند ہونے سے ٹماٹر کی سپلائی کم ہو گئی ہے۔
کراچی میں بھی ٹماٹروں کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں فی کلو ٹماٹر 500 سے 700 روپے کے درمیان فروخت ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فروخت ہو رہے ہیں ٹماٹر کی قیمت کا کہنا ہے کہ میں ٹماٹر کی روپے فی کلو کی وجہ سے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔