Jasarat News:
2025-11-29@12:41:21 GMT

بانو قدسیہ ، حب الوطنی اور قرۃ العین

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

بانو قدسیہ ، حب الوطنی اور قرۃ العین

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">انٹرویو نما رائٹ اَپ کے مطابق بانو قدسیہ نے کہا تھا کہ وہ ممتاز ناول نگار قرۃ العین حیدر اور معروف افسانہ نگار عصمت چغتائی کے بارے میں رائے نہیں دینا چاہتیں کیونکہ بقول بانو قدسیہ کے، وہ انڈین رائٹر ہیں

ایسا لگتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی اور کنٹونمنٹ کے علاقوں کی زمینوں کے سوا ہر چیز سستی چیز یعنی Cheap ہوگئی ہے… یہاں تک کہ حب الوطنی بھی۔ مگر یہ تو بعض حقائق کا اجمال ہے۔ اس اجمال کی تفصیل کے لیے ہمیں معروف ڈراما نگار اور افسانہ نویس بانو قدسیہ کے ایک رائٹ اَپ نما انٹرویو یا انٹرویو نما رائٹ اَپ کے بعض جملوں سے گزرنا پڑے گا۔

انٹرویو نما رائٹ اَپ کے مطابق بانو قدسیہ نے کہا تھا کہ وہ ممتاز ناول نگار قرۃ العین حیدر اور معروف افسانہ نگار عصمت چغتائی کے بارے میں رائے نہیں دینا چاہتیں کیونکہ بقول بانو قدسیہ کے، وہ انڈین رائٹر ہیں اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوجاتا، وہ ان ادیباؤں کے کام کا نام نہ لیں گی۔

بانو قدسیہ کا ناول ”راجا گدھ“ ہمیں اور ہمارے بعض احباب کو اتنا پسند ہے کہ ہم نے اسے تین بار خریدا اور تینوں مرتبہ کچھ دن بعد احباب میں سے کوئی نہ کوئی اسے لے اُڑا۔ لیکن یہ اس ناول سے پیدا ہونے والا واحد مسئلہ نہ تھا، اس ناول کی بابت ہمیں یہ مسئلہ بھی درپیش ہوا کہ اسے کتنی بار پڑھا جائے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ رائے قائم کی کہ بانو قدسیہ قارئین کے لیے مسائل کھڑے کرنے والی ادیبہ ہیں، اور ادب میں یہ صورتِ حال کم کم پیش آتی ہے کہ کوئی لکھنے والا اپنے قارئین کے لیے مختلف قسم کے مسائل کھڑے کردے۔ اتفاق دیکھیے کہ بانو قدسیہ کے ناول ہی نہیں، ان کے انٹرویو کے مذکورہ نکات نے بھی ہمارے لیے سنگین مسائل پیدا کردیے ہیں۔ ان مسائل کا اجمال یہ ہے۔

عصمت چغتائی تو نہیں البتہ قرۃ العین حیدر ہمیں بہت پسند ہیں، لیکن بانو قدسیہ نے حب الوطنی کا جو پیمانہ مقرر کیا تھا اور کشمیر کے کاز سے جس وابستگی کا مظاہرہ کیا تھا، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بھی قرۃ العین حیدر کے کام کے ذکر سے کشمیر کی آزادی تک توبہ کرلیں۔ لیکن یہ تو مسئلے کا محض ایک سرسری سا پہلو ہے۔ ہمیں تو دہلی کی جامع مسجد اور آگرہ کا تاج محل بھی بہت پسند ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کی آزادی تک ہم جامع مسجد اور تاج محل کی تعریف و توصیف سے بھی گئے۔ اب کہنے کو تو ہم نے حب الوطنی کو سستا کہہ دیا ہے، لیکن اس صورتِ حال کو دیکھا جائے تو حب الوطنی خاصی مہنگی پڑتی نظر آتی ہے۔

اتفاق سے ہم ایک قوم کے فرد اور ایک وطن کے شہری ہی نہیں، ایک ملّت کا بھی حصہ رہے ہیں اور ہیں! اس ملّت کو برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ کہا جاتا ہے۔ اتفاق سے کسی زمانے میں برصغیر پر اس ملّت کی حکمرانی تھی اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، انگریزوں نے سازش اور طاقت کے بَل پر ہمیں ایک عظیم اقتدار سے محروم کردیا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں برطانیہ کا شاعر جان کیٹس اور نقاد ٹی ایس ایلیٹ بہت پسند ہیں، چونکہ انگریزوں نے ہم سے برصغیر کی حکمرانی چھینی تھی، چونکہ انھوں نے طویل عرصے تک برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ کی زندگی کو جہنم بنائے رکھا تھا، اور چونکہ انھوں نے اپنے گھناؤنے تسلط پر ہم سے ابھی تک معافی نہیں مانگی ہے، اس لیے حُبِّ ملّت کا تقاضا ہے کہ جب تک انگریز ہم سے اپنے مظالم اور استبداد کی معافی نہ مانگیں، ہم جان کیٹس اور ٹی ایس ایلیٹ کے کام کا ذکر نہ کریں۔

جہاں تک روس کے عظیم ناول نگار دوستو وسکی کا تعلق ہے، تو اس کا کیا کہنا! اس کے ناول تو ہمیں اتنے پسند ہیں کہ ان کے سامنے ہمیں ہر ناول معمولی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جناب یہاں بھی ایک مسئلہ ہے، اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ سابق سوویت یونین کے کمیونسٹ حکمرانوں نے سوویت یونین میں مسلمانوں کی کئی ریاستوں کو ہڑپ کرلیا۔ بعد ازاں سوویت یونین نے برادر ملک افغانستان پر قبضہ کرکے وہاں انسانی تاریخ کے بدترین مظالم کیے۔ ہرچند کہ روس کو وہاں ذلت آمیز شکست ہوئی اور اسے افغانستان سے جانا پڑا، مگر سابق سوویت یونین یا موجودہ روس نے اس عظیم سانحے پر معافی مانگنا تو درکنار، ہم سے معذرت تک نہیں کی۔ چنانچہ حُبِّ ملّت کا تقاضا ہے کہ ہم دوستووسکی کے نام اور کام کا ذکر بند کردیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم بانو قدسیہ سے اس سلسلے میں مشورہ کرتے تو وہ ہم سے یہی کہتیں کہ جو میں نے کیا وہی کرو۔ لیکن ذرا آئیے، اس سلسلے میں اپنی اسلامی تاریخ سے بھی مشورہ کرلیں، غالباً اس حوالے سے ایک مشورہ کافی ہوگا۔

یہ اسلامی تاریخ کا وہ زمانہ ہے جب امتِ مسلمہ کو تاتاریوں کے طوفانِ بلاخیز کا سامنا تھا۔ جلال الدین خوارزم چنگیز خان سے لڑتے لڑتے تھکا جارہا تھا۔ ایسے میں اُسے ایک دن چنگیز خان کے انتقال کی اطلاع موصول ہوئی۔ اس موقع پر جلال الدین نے اُس چنگیز خان کے بارے میں، جس نے لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کردیا تھا، کہا کہ وہ ایک بہادر دشمن تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اپنے دشمن کی خوبیوں کی تعریف سے کبھی نہیں گھبرائے، اور انھیں کبھی کسی کی تعریف معرضِ التوا میں نہیں ڈالنی پڑی۔ اس لیے کہ ان کا دین، ان کا تصورِ کائنات، ان کا تصورِ انسان اور تصورِ زندگی ان میں ایسی کشادگی اور ایسی خوداعتمادی پیدا کرتا ہے کہ جس میں کم ظرفی، تھڑدلی اور تنگ نظری کے لیے کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔

جہاں تک ہمیں معلوم ہے قرۃ العین حیدر یا راجندر سنگھ بیدی (جن کی توصیف سے بھی بانو قدسیہ نے گریز کیا تھا) بھارت کے شہری ضرور تھے، لیکن وہ بھارتی حکومت نہیں تھے، اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کی پیدائش اور اس کے استقرار میں ان کا کوئی کردار تھا۔ لیکن اس کے باوجود بانوقدسیہ ان کی تعریف سے گریز کررہی تھیں اور اس گریز کے لیے انھوں نے نام نہاد حب الوطنی کا سہارا لیا تھا۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی صرف ایک جغرافیے میں نہیں… لاکھوں مسلمانوں کے دلوں، دماغوں اور روحوں میں چل رہی ہے، اور یہ ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ لیکن اس کے باوجود بانو قدسیہ کے رویّے کا کوئی جواز نہیں۔ اس لیے کہ اس کا مسلمانوں کی تاریخ اور مسلمانوں کے مجموعی مزاج سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو نہ اتنی سستی حب الوطنی کی ضرورت تھی اور نہ ہونی چاہیے۔ اس سے پاکستان مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوگا اور ہوا ہے، اس لیے کہ اُس کے حصے میں ایسی ہی حب الوطنی آئی ہے۔ اس حب الوطنی کے کئی چہرے ہیں۔ ایک چہرہ وہ ہے جو پاکستان کو 1947ء سے شروع کرنا چاہتا ہے اور اس سے پہلے کی ہر چیز اور ہر بات کو بھلا دینا چاہتا ہے۔ ایک چہرہ وہ ہے جو پاکستان کی تاریخ کو موہن جودڑو کے مُردہ خانے میں تلاش کرتا ہے۔ ایک چہرہ وہ ہے جو پاکستان کو ”سندھ ساگر“ کی کابُک میں بند کردینے کی خواہش رکھتا ہے۔

شاہنواز فاروقی دانیال عدنان

.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قرۃ العین حیدر بانو قدسیہ نے بانو قدسیہ کے سوویت یونین حب الوطنی پسند ہیں کشمیر کی کی تعریف ہے کہ ہم یہ ہے کہ اور اس اس لیے کے لیے

پڑھیں:

جمہوری افغانستان بہتر ہو گا!

کیا ہندوستان سے دشمنی اور نقصان کم تھا؟ کہ  ایک اور ہمسایہ ملک بدترین دشمن بن گیا ہے۔ دوسری جانب ملکی معاملات اس بگاڑ تک پہنچ چکے ہیں  جہاں سے واپسی قدرے مشکل معلوم پڑتی ہے۔ اندرونی عدم استحکام اور بیرونی گھاؤ اب ناقابل یقین حد تک بڑھ چکے ہیں۔ چند دن پہلے‘ ایک مباحثہ میں شرکت کی۔ ایک ریٹائرڈ سفیر فرما رہے تھے کہ افغانستان ‘ ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کر رہا ہے، سبق سکھانے کا وقت آ چکا ہے۔

تاجکستان میں چینی باشندوں کی ہلاکت کا بھی ذکر ہو رہا تھا  جو کہ ڈرون کے ذریعے‘ افغانستان ہی سے کی گئی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سوچ درست ہو۔ مگر بنیادی ترین سوال تو یہ ہے کہ افغانستان کو اس زبوں حالی تک لایا کون ہے؟ جناب! نوجوان بچے اور بچیاں تصور ہی نہیں کر سکتے کہ آج سے پچاس ‘ ساٹھ برس پہلے کا افغانستان کیا تھا؟ ویسے ‘ وہ تو یہ بھی نہیں‘ اندازہ لگا سکتے کہ ضیاء الحق سے پہلے کا پاکستان کیا تھا؟ذرا‘ انٹرنیٹ پر 1970ء کے کابل کی تصاویر اور اس پر لکھے ہوئے مضامین پڑھیے۔آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

کابل‘ ایشیاء کا پیرس کہلاتا تھا۔ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں ‘ مغربی سیاح پورے ملک کے چپے چپے میں موجود ہوتے تھے۔ان گنت‘ بسوں پر مشتمل کاروان ہوٹلوں کے باہر نظر آتے تھے۔ یہی کیفیت لاہور اور کراچی کی بھی تھی۔ گورے‘ ان گنت تعداد میں افغانستان اور پاکستان میں پھرتے رہتے تھے۔ کابل میں جدید ترین عمارتیں اور باغات موجود تھے۔ کیفے‘ ریستوران‘ سینما‘ تھیٹر‘ شاپنگ پلازے اور بارز عام تھے۔ بھارتی فلمیں دیکھنے کے لیے پاکستان کے لوگ ‘ کابل جایا کرتے تھے۔

جہاں تک عام انسان کی زندگی کا معاملہ تھا تو جدید ترین علمی درسگاہیں اور یونیورسٹیاں موجود تھیں۔جہاں لاکھوں کی تعداد میں افغان نوجوان لڑکے اور لڑکیاں زیر تعلیم تھے۔ لباس میں بھی بہت زیادہ تنوع تھا۔ طالبات اور خواتین‘ مغربی ملبوسات میں بھی دکھائی دیتی تھیں۔ ہر کوچے میں‘ روایتی افغان لباس بھی پہنا جاتا تھا۔ ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام ‘حکومت کی طرف سے مہیا کیا گیا تھا۔ اگر آپ‘ پاکستان بننے سے پہلے کے معاملات دیکھیں۔ تو یہ بھی نظر آتا ہے کہ برصغیر کے مسلمان‘ ہندو‘ پارسی اور سکھ تاجر‘ افغانستان میں کھلے عام ‘ سکون سے کاروبار کرتے تھے۔ بے سکونی اور دہشت گردی کا شائبہ تک نہیں تھا۔

یعنی ہم ‘ آرام سے کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان‘ ایک بہترین اور جدید ملک تھا۔ یہ نہیں کہ وہاں مذہبی رجحان کمزور تھا۔ بالکل نہیں ۔ مساجد‘ نمازیوں سے بھری ہوتی تھیں۔ مگر معاشرے میں شدت پسندی‘ مذہبی جنونیت بالکل موجود نہیں تھی۔کیا یہ سوال پوچھنا صائب نہیں ہے کہ ایک جدید ترین ملک کو برباد کیسے کیا گیا؟ سوویت حملہ اپنی جگہ ۔

مگر امریکا کی شہہ اور پیسے کے زور پر افغانستان میں خونی کھلواڑ برپا کیا گیا۔ اس عمل نے ‘ اس بدقسمت ملک کو خون‘ لاشوں‘ لا قانونیت ‘ دہشت گردی اور قتل و غارت کا مقتل بنا دیا۔ جناب!یہ سب کچھ کس نے کیا ہے؟ آج اس کی ذمے داری لینے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔ بلکہ اب الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ہمارے اپنے ملک کو اعتدال کے راستہ سے بھٹکا کر ‘ جنگ و جدل میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔

جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔ ویسے انجام تو سب کو معلوم ہے۔مگر وہ اس قدر بھیانک ہے کہ ذکر کرتے ہوئے دل دہلتا ہے۔ اندازہ فرمایئے کہ جب مباحثہ میں ‘ یہ گزارشات پیش کیں تو سفیر صاحب ‘ خاموش ہو گئے۔ ان کے پاس کسی قسم کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ایک نکتہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جب پاکستان میں‘ طالبان کو بہترین مسلمان اور مجاہدین بنا کر ‘ نیکی کے ڈھول بجائے یا بجوائے جاتے تھے۔ اس وقت بھی‘ خاکسار‘ طالبان کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرتا تھا۔ دہائیوں سے مسلسل عرض کر رہا ہوں اور آج بھی میرا ذاتی نظریہ یہی ہے کہ طالبان ‘ بھرپور طریقے سے دہشت گرد ہیں۔ ان کی خصلت میں تشدد ہے۔ اور وہ کبھی ہمارے ممنون نہیں رہے اور نہ رہیں گے۔

جس وقت ‘ ملا عمر کو امیر المومنین بنا کر پیش کیا جا رہا تھا اس وقت بھی ڈنکے کی چوٹ پر طالب علم عرض کر رہا تھا کہ یہ اسلام کا شفقت بھرا چہرہ ‘ مسخ کر رہے ہیں۔ مگر اس وقت ہم ان کے عشق میں مبتلا تھے۔ جب‘ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا سانحہ ہوا۔ اور دنیا کی آنکھیں کھلیں کہ یہ لوگ تو امریکا کے شہروں تک پہنچ چکے ہیں۔ تو پھر‘ ہمارے ریاستی ذہن کو وقت کے حساب سے مجبوراً تبدیل ہونا پڑا۔ چند برس پہلے کے معاملات دیکھیئے۔ نیٹو کی افواج کے غیر منظم انخلا سے‘ اقتدار دوبارہ ‘ انھی دہشت گردوں کے ہاتھوں میں واپس چلا گیا۔ جو امن سے رہنا جانتے ہی نہیں ہیں۔

جن کا پیشہ ہی خون ریزی ہے اور ان کا ہمارے عظیم دین سے رتی برابر بھی تعلق نہیں ہے۔ عورتوں کے حقوق پر کیا بات کرنی؟ ذرا‘ دل پر ہاتھ رکھ کر سنیئے ۔ افغانستان میں منشیات کی کاشت پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نہ ہی تھا۔ لکھ تو بہت کچھ سکتا ہوں مگر شائستگی اور تہذیب ‘ اجازت نہیں دیتی۔ افغان حکومت ‘ کم علم اور مشکل ترین لوگوں کا وہ مجموعہ ہے‘ جو ہمارے ملک کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔

ان کے نزدیک ‘ ڈیورنڈ لائن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ظلم یہ ہے کہ ہمارے چند ناعاقبت اندیش سیاست دان بھی یہی فرماتے ہیں کہ ایک ہی قبیلہ کے لوگ ‘ سرحد کے دونوں طرف موجود ہیں۔ لہٰذا افغانستان اور پاکستان میں آنے جانے پر کوئی بارڈر کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔ افغان ٹرک‘ بارو د بھر کر بھی اگر جا رہے ہیں تو ہماری حکومت کو اسے چیک بھی نہیں کرنا چاہیے۔ 

 متوازی دلیل عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یورپ‘ متعدد ملکوں میں بٹا ہوا ہے۔ مگر پہلی جنگ عظیم سے پہلے‘ آسٹروہنگرین سلطنت میں کئی نسلوں کے افراد موجود تھے۔آج‘ مرکزی یورپ میں ‘جرمن اور دیگر قومیں‘ ہر ملک میں آرام سے رہ رہے ہیں۔ مگر‘ دوسرے ملک میں جانے کے لیے انھیں قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔ جرمنی کا شہری‘ سوئٹزر لینڈ یہ بتا کر داخل نہیں ہو سکتا کہ آپ کے ملک میں بھی جرمن نسل کے لوگ موجود ہیں۔ اور میں بھی اسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں۔

لہٰذا مجھے ‘ کسی طرح کے قانون سے مبرا کیا جائے۔ نہیں صاحبان نہیں!ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ جب پوری دنیا میں ملک‘ اپنی سرحدوں پر قانون کی حکمرانی کو ترویج دیتے ہیں ۔ تو ہم افغانستان کے شہریوں کو کیسے وہ حق دے سکتے ہیں۔ جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے خلاف ہے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات ٹھیک ہونے کا عمل بھی حددرجہ پیچیدہ ہو گا۔ ہماری غلطیاں اپنی جگہ پر۔ افغان طالبان نے ‘متوقع کوتاہ اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے‘ ہمارے دشمن ہمسایہ ملک سے روابط بہت زیادہ استوار کر ڈالے ہیں۔

موجودہ صورت حال کسی صورت میں تسلی بخش نہیں ۔ ہندوستان ‘ اپنی پوری طاقت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ‘ افغانستان میں موجود ہے۔ مت بھولیے کہ اسرائیل اور ہندوستان ایک ہی سکے کے دو بھیانک رخ ہیں۔ ڈرون حملے ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل‘ اپنے دوست ملک یعنی ہندوستان کے ذریعے‘ طالبان حکومت کو ڈرون مہیا کر رہا ہے۔ تاجکستان پر حالیہ حملہ بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ مبینہ طور پر کے پی کے سرحدی مقامات پر بھی افغانستان سے ڈرون حملے جاری و ساری ہیں۔

گہرائی سے دیکھا جائے تو ’’آپریشن سندور‘‘ بذریعہ افغانستان ہم پر دوبارہ مسلط کیا جا چکا ہے۔ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ یہ بگاڑ‘ اب بڑھے گا۔ افغانستان سے دہشت گردی کے معاملات ‘ زیادہ سے زیادہ ابتری پیدا کر یں گے۔ ہمارے دفاعی ادارے‘ خون کا نذرانہ پیش کر کے‘ اس شیطانی عمل کی بیخ کنی کر رہے ہیں۔ مگر یہ کافی نہیں ہے۔ افغانستان کے شہریوں میں طالبان حکومت کے خلاف بھرپور جذبات موجودہیں۔ وہ صرف اور صرف جبر کے ذریعے افغان شہریوں پر ظالمانہ نظام برپا کر رہے ہیں ۔

کسی قسم کا کوئی چناؤ یا الیکشن سے مبرا‘ طالبان کی یہ شخصی حکومت‘ مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ جب تک‘ ان لوگوں کی حکومت تبدیل نہیں کی جاتی۔ یہ ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ مگر یہ سب کچھ‘ تدبیر اور تدبر کے ذریعے کرنا چاہیے۔ عسکری لحاظ سے تو افغانستان اور ہمارے ملک کے دفاعی نظام کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ مگر وقت کی ضرورت ہے کہ افغانستان میںایک شفاف الیکشن کا ڈول ڈالا جائے اور الیکشن‘ اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہونے چاہیں۔ افغانستان کے شہریوں کو ترقی کے مواقع ملنے چاہیں۔

انھیں آزاد فضا میں سانس لینے کا حق حاصل ہے۔ مگر یہ سب کچھ کرنا بالکل آسان نہیں ہے۔ میری اس تجویز پر جد درجہ تنقید بھی کی جائے گی۔ مگر پیہم عرض کروںگا کہ افغانستان سے طالبان کی حکومت کو‘ چناؤ کے ذریعے ختم کرکے ایک جمہوری نظام قائم کرنے سے ہی امن قائم ہو گا۔ مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ اندرونی سیاسی عدم استحکام ‘کیا ہمیںاس امر کی اجازت دیتا ہے کہ اتنی مدبرانہ سوچ رکھ پائیں؟
 

متعلقہ مضامین

  • جمہوری افغانستان بہتر ہو گا!
  • ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تحفظات ہیں، شفیع جان
  • میاں جی اور موبائل فون
  • چار بیویوں کی اجازت ؟
  • لاہور: میٹرو بس میں سونے کی بالیاں نوچنے والی 2 برقعہ پوش خواتین گرفتار
  • قدسیہ علی: پاکستانی مرد اداکاراؤں سے شادی میں دلچسپی نہیں رکھتے
  • پاکستانی مرد اداکاراؤں سے شادی نہیں کرتے، قدسیہ علی
  • آئینی فرائض مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہیں، نریندر مودی
  • قدسیہ علی کا پاکستانی مردوں سے کیا شکوہ ہے؟