data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251206-1-11
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) مرکزی رہنماء پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا ہے کہ یہ فارم 47 کی ناجائز حکومت ہے ،ملک میں اب جمہوریت ختم ہوچکی ہے، یہ فاشسٹ حکومت کا طرزِ عمل ہے کہ عمران خان سے کسی کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔ ایکس پر جاری ٹویٹ کے مطابق مرکزی رہنماء پی ٹی آئی اسد قیصر نے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، تحریک انصاف کو درپیش چیلنجز، آئینی و جمہوری امور اور سندھ کی ابتر سیاسی و انتظامی صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سندھ میں اس تحریک کو عوام تک زیادہ موثر انداز میں پہنچایا جائے، اس کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے اور آئین کی بالادستی، جمہوری حقوق کے تحفظ اور شفافیت کی جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے۔ اسد قیصر نے کہا کہ یہ فاشسٹ حکومت کا طرزِ عمل ہے کہ عمران خان سے کسی کو ملنے نہیں دیا جا رہالیکن قانون کیا کہتا ہے۔ قانون کے مطابق ہر قیدی کو ملاقات کی اجازت ہوتی ہے، قتل اور بڑے جرائم میں ملوث مجرموں کو بھی ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہم اس رویّے کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ حکومت فارم 47 کی ناجائز حکومت ہے۔ اس وقت ملک میں عملاً جمہوریت ختم ہو چکی ہے اور کوئی جمہوریت نہیں رہی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر