سارا نظام ایک لمحے میں ڈی ریل ہوسکتاہے ، حسن مرتضیٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251023-08-14
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے فیصلہ کیا کہ ہمیں جلدی نہیں کرنی، مزید بہتری کی کوشش کرنی ہے، سارے سسٹم کو ایک لمحے میں ڈی ریل کیا جاسکتا ہے، لیکن پیپلزپارٹی کی قربانیوں سے سسٹم بحال ہواہے، آج پارلیمان تو پانچ سال پورے کرتی ہے لیکن کوئی بھی حکومت پانچ سال پورے نہیں کرپاتی۔ صحافی نے سوال کیا کہ کیا پیپلزپارٹی مریم نواز سے ان کی مبینہ بدتمیزی پر معافی کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی ہے؟ اس پر حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ بدتمیزی تو بہت چھوٹی چیز ہے، شاید یہ ان کے لاشعور میں ہے، ہم اسے محسوس بھی نہیں کرتے، پارٹی ترجمان لفظوں کے چناؤ اور کیمونی کیشن اسکل کو بہتر کرلیں تو پھر سیاست دان تماشا نہیں بنیں گے، آج بھی ہم سڑکیں بنانے کے لیے اربوں روپے قرض لے رہے ہیں توموسمیاتی تبدیلی کے لیے کیوں نہیں بات کرتے۔حسن مرتضیٰ نے پنجاب حکومت پر سیلاب میں غلط اعداد و شمار بتانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اتنی کشتیوں میں لاکھوں لوگ ایک ہفتے میں ریسکیو نہیں کیے جاسکتے، موجودہ کشتیوں میں اتنے لوگوں کو ریسکیو کرنے میں کم از کم 6 ماہ لگ جائیں، آپ کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت فوری امداد کا طریقہ پسند نہیں تھا، اب جو امداد شروع ہوئی ہے وہ کس میکنزم کے تحت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب