جاپان میں پارلیمنٹ کے انتخابات، سانائے تاکائچی ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم منتخب
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
جاپان میں پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد سانائے تاکائچی ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بن گئی ہیں۔
انہیں جاپان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں 149 کے مقابلے میں 237 ووٹوں سے منتخب کیا گیا جبکہ ایوانِ بالا میں بھی دوسری ووٹنگ میں تاکائچی نے 46 کے مقابلے میں 125 ووٹ حاصل کیے، کیونکہ پہلی ووٹنگ میں وہ اکثریت سے صرف ایک ووٹ کے فرق سے پیچھے رہ گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: جاپانی وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا اعلان، ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا
64 سالہ قدامت پسند رہنما، جاپان میں آئرن لیڈی کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ یہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کی تیسری کوشش تھی۔ ان کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) گزشتہ 5 سالوں میں 4 وزرائے اعظم بدل چکی ہے۔
سانائے تاکائچی ایل ڈی پی کے سخت گیر دھڑے سے تعلق رکھتی ہیں اور جاپان کے سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی خاص ساتھی سمجھی جاتی ہیں۔
نئی وزیراعظم کے سامنے کئی چیلنجز ہیں، جن میں سست معیشت کو سنبھالنا، امریکا۔جاپان تعلقات کو متوازن رکھنا، اور اسکینڈلز و اندرونی اختلافات سے دوچار حکمران جماعت کو متحد کرنا شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔