پنجاب حکومت کا بڑا اقدام، صوبے بھر میں 33 موبائل پولیس اسٹیشنز کا قیام
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک)پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے قانون تک عوام کی رسائی آسان بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبے بھر میں 33 موبائل پولیس اسٹیشنز متعارف کرائے جا رہے ہیں جن میں 7 پنک موبائل اسٹیشنز خاص طور پر خواتین کے لیے مختص ہوں گے۔ ان موبائل اسٹیشنز میں مکمل خواتین عملہ تعینات ہوگا تاکہ وہ خواتین جو روایتی تھانوں میں جانے سے گریز کرتی ہیں، بااعتماد ماحول میں اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ اقدام اسی وژن کا تسلسل ہے جس کے تحت صحت کی سہولیات دہلیز تک پہنچانے کے لیے موبائل کلینکس شروع کیے گئے تھے۔ ہر علاقے کے لیے موبائل پولیس اسٹیشنز کا شیڈول جاری کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو معلوم ہو سکے کہ کب اور کہاں یہ سہولت دستیاب ہوگی۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے مریدکے کے حالیہ واقعے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں تین شہری شہید، 48 زخمی اور 110 پولیس اہلکار متاثر ہوئے جن میں سے 18 کو فائر آرم انجریز آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ شرپسند عناصر نے آٹھ پولیس وینز کو نذرِ آتش کیا، ریسکیو 1122 کی گاڑیاں چھین لیں اور اسلحہ لوٹ کر پولیس پر حملے کیے۔ عظمیٰ بخاری نے میڈیا کو سیف سٹی کیمرہ فوٹیجز دکھائیں اور کہا کہ یہ فٹیجز جھوٹ نہیں بولتیں، ان میں صاف نظر آ رہا ہے کہ مظاہرین نے ڈولفن فورس اور پولیس پر حملے کیے، سرکاری گاڑیاں جلائیں اور شہری املاک کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اسلام، فلسطین اور غزہ کے نام پر سادہ لوح نوجوانوں کو ورغلایا گیا جبکہ حقیقت میں یہ کارروائیاں ایک منظم پرتشدد منصوبے کا حصہ تھیں۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ واقعے سے متعلق 33 دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ تحریک لبیک پاکستان کے 95 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ 3800 ملکی و غیرملکی فنانسرز کی نشاندہی کر لی گئی ہے جو اس تنظیم کی مالی معاونت کرتے رہے۔ ان کے مطابق ان سب کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں اور ایک خصوصی پراسیکیوشن سیل تشکیل دے دیا گیا ہے تاکہ کیسز کو سائنسی بنیادوں پر منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ حکومت کسی قبر کی منتقلی یا کسی مسجد کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے بنیاد افواہیں ہیں، کسی قبر یا مسجد کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کی زیر انتظام 330 مساجد اور 223 مدارس کا انتظام سنبھال لیا ہے تاہم تمام مساجد نماز اور اذان کے لیے کھلی رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف اذان اور نماز تک محدود ہوگا اور مذہبی اشتعال انگیزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ مزید کہا کہ تمام مدارس کی جیوتیگنگ مکمل ہو چکی ہے اور ان میں زیرِ تعلیم طلبہ کی تفصیلات جمع کر لی گئی ہیں۔ چند مدارس جو سرکاری زمینوں پر غیرقانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے ان کے بارے میں بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔
عظمیٰ بخاری نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو شرپسند عناصر کے استعمال سے بچائیں۔ ان کے مطابق جو نوجوان ان عناصر کے بہکاوے میں آئیں گے ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم ہوں گے اور ان کا مستقبل متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنی ذمہ داری نبھائیں تاکہ ان کے بچے فساد یا اشتعال انگیزی کا ایندھن نہ بنیں۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پنجاب کابینہ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سفارش وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی کابینہ جلد اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گی کیونکہ پاکستان مزید کسی انتشار، خونریزی یا شدت پسندی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنیت کے خلاف کارروائی ہے جو نفرت، تشدد اور انتشار پھیلا رہی ہے۔ ہمارا مذہب امن، رواداری اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کہا کہ یہ نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق کے خلاف کے لیے اور ان
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ