غزہ میں سرکاری میڈیا دفتر نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی قید سے واپس ملنے والے 54 فلسطینی اسیر شہداء کی لاشوں کو آج بدھ کے روز وسطی غزہ کے علاقے دیرالبلح میں ایک اجتماعی قبر میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی حکومت نے 54 فلسطینی اسیر شہداء کی لاشیں واپس کر دیں۔ غزہ میں سرکاری میڈیا دفتر نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی قید سے واپس ملنے والے 54 فلسطینی اسیر شہداء کی لاشوں کو آج بدھ کے روز وسطی غزہ کے علاقے دیرالبلح میں ایک اجتماعی قبر میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ قابض اسرائیل نے ان شہداء کے ناموں کی کوئی باضابطہ فہرست فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق دفتر کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل ثوابتہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ قابض اسرائیل نے شہداء کی لاشیں واپس کیں تو ان پر واضح طور پر تشدد اور اذیت کے آثار موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل معائنے سے ثابت ہوا ہے کہ قابض اسرائیل نے شہداء کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔ کئی لاشوں پر ایسے نشانات ملے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں یا تو قریب سے گولی مار کر قتل کیا گیا یا پھانسی دے کر شہید کیا گیا۔ یہ سب میدان میں کی جانے والی جان بوجھ کر کی گئی پھانسیوں کی واضح مثالیں ہیں۔ ثوابتہ نے بتایا کہ ان لاشوں کو تقریباً پانچ دن تک مخصوص وقت کے دوران محفوظ رکھا گیا، ان کی دستاویز بندی کی گئی اور متعلقہ اشیاء کے ساتھ تصاویر لی گئیں، تاہم تشدد کے باعث چہروں اور جسموں کے خدوخال مسخ ہونے کی وجہ سے ان کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔ اسی لیے انہیں نمبروں کے تحت قبروں میں دفن کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ قابض اسرائیل شہداء کی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم