عمران خان سے ملاقات، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی راہ ہموار کر دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی بانی تحریک انصاف عمران خان سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیے گئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے اعتراضات کے ساتھ درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری داخلہ پنجاب، آئی جی پولیس اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کروں گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
درخواست گزار وزیر اعلیٰ کے پی کی جانب سے علی بخاری ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار آفس نے غیر ضروری اعتراضات عائد کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس نوعیت کی درخواست پر پہلے ہی عدالتی فیصلہ آ چکا ہے۔
ایک اور اعتراض میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا صوبائی حکومت یا کابینہ کے فیصلے کے بغیر کیسے درخواست دائر کر سکتے ہیں؟ جس پر علی بخاری ایڈوکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ ابھی کابینہ بنی ہی نہیں ہے، اس لیے یہ اعتراض بے بنیاد ہے۔
عدالت نے تمام اعتراضات دور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
یہ بھی پڑھیے عوام کا نمائندہ ہوں، عمران خان سے ملنے دیا جائے، سہیل آفریدی کا چیف جسٹس کو خط
یاد رہے کہ رجسٹرار آفس نے اس سے قبل مؤقف اختیار کیا تھا کہ بانی تحریک انصاف سے ملاقاتوں کے حوالے سے تمام پٹیشنز کو یکجا کر کے عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے، جس میں ملاقات کا طریقہ کار اور ایس او پیز طے کیے جا چکے ہیں۔
رجسٹرار آفس نے مزید کہا تھا کہ بانی تحریک انصاف سے ملاقات کے لیے پی ٹی آئی کے آفس ہولڈرز ہفتہ وار فہرست تیار کرنے کے مجاز ہیں، مگر موجودہ درخواست میں متعلقہ آفس ہولڈرز کو فریق نہیں بنایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبر پحتونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پحتونخوا کے نومنتخب وزیراعلی سہیل ا فریدی وزیر اعلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔