نو منتخب وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت پہلا باضابطہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اکتوبر2025ء) نو منتخب وزیر اعلی خیبر پختونخوامحمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پیر کے روز پہلا باضابطہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔وزیر اعلیٰ ہائوس پشاورکے تر جمان کے مطابق اجلاس میں صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ پر پیشرفت اور امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں انسداد بدعنوانی سے متعلق معاملات پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، آئی جی پی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز، اور پولیس کے دیگر اعلی حکام سمیت متعلقہ افراد نےشرکت کی۔اجلاس میں صوبے کے تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔متعلقہ حکام کی طرف سے وزیر اعلی کو صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے مختلف پہلووں پر بریفنگ دی گئی ۔(جاری ہے)
بریفنگ کے مطابق گڈ گورننس روڈ میپ کا مقصد پبلک سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا ہے، گڈ گورننس روڈ میپ پی ٹی آئی کے وژن اور منشور کے عین مطابق تیار کیا گیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق گڈ گورننس روڈ تین وسیع شعبوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے،ان شعبوں میں پبلک سروس ڈیلیوری، امن و امان اور معیشت شامل ہیں۔ بریفنگ کے مطابق روڈ میپ پر عملدرآمد کے سلسلے میں تمام محکموں کے لئے الگ الگ ایکشن پلان تیار کئے گئے ہیں۔اجلاس میں وزیر اعلی کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی کے واقعات اور عوامل، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات، پراونشل ایکشن پلان پر عملدرآمد، آئیندہ کے لائحہ عمل، پولیس کو مستحکم بنانے کے لئے اقدامات اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہماری پارٹی کا سب سے اہم ایجنڈا ہے، کسی کو بھی کسی بھی قسم کے کرپشن کی اجازت نہیں ہوگی، جو کرپشن کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازم اور ہم سب عوام کے خادم ہیں، ہم اپنے عہدوں پر عوام کی خدمت کے لئے بیٹھے ہیں، اگر کسی سرکاری ملازم سے عوام مطمئن نہیں ہونگے تو وہ اپنے عہدے پر نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ میں روایتی انداز میں کام کرنے کے لئے نہیں آیا، روایتی انداز سے ہٹ کر کام کرنا ہوگا،ہم نے ایسے کام کرنے ہیں جسے عوام کو احساس ہو کہ انہوں نے صحیح تبدیلی کے لئے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے۔انہوں نےضم اضلاع کے لئے ٹرائبل میڈیکل کالج اور ٹرائبل یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام ضم اضلاع میں ان اداروں کے کیمپیسز قائم کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام ضم اضلاع میں تحصیل کی سطح پر پلے گراونڈز کی تعمیر ،سیف سٹی پراجیکٹ اور یونیورسٹی آف انوسیٹیگیٹیو اینڈ ماڈرن جرنلزم کے قیام اور پشاور شہر کی بحالی و ترقی کے لئے ریوایویل پلان کا بھی اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ ای پیڈ سسٹم کو صوبائی حکومت کے ای ٹینڈرنگ سسٹم سے ہم آہنگ کیا جائے، رٹہ سسٹم کے خاتمے کے لئے کانسیپچوئل ایگزامینشن سسٹم رائج کرنے پر کام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی پوسٹنگ ٹرانسفرز کے لئے دو سالہ پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، پوسٹنگ ٹرانسفرز کے لئے سفارش کلچر کا خاتمہ کیا جائے،پوسٹنگ ٹرانسفر سمیت تمام سرکاری امور میں ٹرانسپرنسی اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے سخت فیصلے لوں گا، ان پر عملدرآمد کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی ایف آئی آر میں کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا جائے گا،خیبر پختونخوا کا اپنا ایک مخصوص سیاسی کلچر ہے ہم اسے خراب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ امن و امان ہماری حکومت کی پہلی ترجیح ہے اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، پولیس کو فنڈز کی کمی کا سامنا نہیں ہوگا، تمام درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے،پولیس کو جدید آلات اور اسلحے سے لیس کیا جائے گا، کے پی پولیس نے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں، پولیس شہداء کے درجات کی بلندی اور ان کے اہل خانہ کے لئے صبر جمیل کی دعا کرتا ہوں، پولیس نے کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی، لیکن پولیس کے خلاف عوامی شکایات بھی نہیں آنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ہائوسنگ سوسائٹیز میں پولیس اور میڈیا کے لئے الگ انکلیوز ہونے چاہیے۔صوبے کے سابقہ وزرائے اعلی سے لی گئی سکیورٹی انہیں واپس کی جائے تاکہ ان کا تحفظ اور تکریم یقینی ہو۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صوبائی حکومت کے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی اجلاس میں کیا جائے کے مطابق کے خلاف کے لئے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔