8 لاکھ ڈالر ڈیجیٹل کرنسی لوٹنے کا معاملہ، نوجوان نے بیان ریکارڈ کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ایئرپورٹ پر ساڑھے 8 لاکھ امریکی ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی لوٹنے کے معاملے میں شہری نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔
ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزاد نے تصدیق کی کہ ہم نے متاثرہ نوجوان کا بیان ریکارڈ کرلیا ہے، دیگر شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گریڈ 17 کے افسر کو نامزد کردیا گیا ہے، انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی جائے گی۔
نوجوان شہری نے بیان میں کہا کہ میری ریکی کی جاتی ہے، اب بھی مجھے دھمکی آمیز کال موصول ہوتی ہیں، میرا ای میل اکاؤنٹ اور واٹس ایپ ہیک کرلیا گیا ہے۔
نوجوان نے یہ بھی کہا کہ ایئر پورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز پولیس قبضے میں لے، اگر 30 دن گزر گئے تو ویڈیو ریکارڈ ضائع ہوجائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ کراچی ایئر پورٹ پر لگے کیمروں میں مجھے لوٹنے والوں کو پہچانا جاسکتا ہے، عدالت میں ایڈیٹڈ فوٹیج جمع کرائی، جس میں 45 منٹ تک میں ایک ہی جگہ بیٹھا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔