Express News:
2026-07-24@04:34:20 GMT

دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کا جامع پلان افغانستان کے حوالے کردیا ہے۔ پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں ہوا۔ طالبان حکام پاکستانی تجویز پر غور و خوض جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری تنازعات کو بخوبی حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم فی الحال انھیں اس میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی جب کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدے پر نہ پہنچنے کا مطلب ’’ کھلی جنگ‘‘ ہوگا، میرے خیال میں افغانستان امن چاہتا ہے۔

 استنبول میں پاکستان اور افغان عبوری حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی خبروں نے ملک بھر میں ایک مضبوط امید اور اسی کے ساتھ خوف کی کیفیت پیدا کی ہے۔ یہ مذاکرات نہ صرف سرحدی تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے روایتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے پیچیدہ اور متعدد جہتی تنازع کے حل کی آخری کوششوں میں سے ایک نظر آتے ہیں۔

پاکستان کی نمایندہ ٹیم نے جو جامع مسودہ افغان حکام کو پیش کیا ہے، وہ دراصل کئی دہائیوں کے کڑے تجربات، قربانیوں اور قومی مفادات کا مخلوط عکس ہے۔ اس مسودے کی نوعیت، اس میں موجود مطالبات اور ان مطالبات کے نفاذ کے طریق کار پر غور و فکر کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کا اثر ہماری قومی سلامتی، معیشت، سرحدی برآمدات، علاقائی تعلقات اور انسانی فلاح و بہبود پر پڑ سکتا ہے۔

پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کا بنیادی سوال کیا ہے، اگرچہ سادہ الفاظ میں یہ مطالبہ دہشت گردی اور تربیتی کیمپوں کے خاتمے کا ہے، مگر حقیقت میں یہ موقف سرحدی خود مختاری، ریاستی سلامتی اور شہری تحفظ کا مرکب ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں سرحدی علاقوں میں ہونے والے حملے، شکنجے میں آتی ہوئی فوجی اور سویلین جانوں کی قربانیاں، قبائلی علاقوں میں تباہ کاری اور سرحد پار سے آنے والی سرکشی نے پاکستانی عوام میں ایک طویل عرصے تک جاری عدم برداشت پیدا کردی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہماری افواج اور حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے رکھتی ہیں۔ استنبول مذاکرات میں پیش کیا گیا جامع مسودہ دراصل ان مطالبات کا ایک منظم اور دستاویزی اظہار ہے جس میں ممکنہ طور پر دہشت گرد گروہوں کی شناخت، ان کے ٹھکانوں کی فہرست، تربیتی اور مالی نیٹ ورکس، ان کے کمانڈ و کنٹرول کے طریقے اور ان گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کے لیے مشترکہ طریقہ کار شامل ہوگا، مگر یہ تمام تکنیکی اور عملی پہلو جتنا ضروری ہے، اتنا ہی سیاسی اور اخلاقی پہلو بھی ہے جنھیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سرحدی بندشیں اور تجارتی راہداریاں بند ہونے کی صورتحال نے ایک الگ قسم کا بحران پیدا کیا ہے۔ چمن، خیبر، جنوبی و شمالی وزیرستان اور ضلع کرم کی سرحدی راہداریاں چودہویں روز بھی بند ہیں اور باب دوستی طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان کے راستوں پر سیکڑوں مال بردار گاڑیاں پاکستان میں داخل ہونے کی منتظر ہیں۔ یہ محض تجارتی تاخیر نہیں، بلکہ روزمرہ کے سامان، صنعت کے خام مال، چھوٹے تاجروں کی آمدنی، روزگار کے مواقع اور بالواسطہ طور پر پوری علاقائی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

سرحدی تجارتی راہداریوں کی بندش سے مقامی لوگوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مشکلات میں آجاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر معاشی سست روی پیدا ہوتی ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی بھی علامت ہے کہ اگر تصادم بڑھا تو اس کے اثرات صرف عسکری یا سیاسی میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عوامی سطح پر ایک وسیع بحران جنم لے گا، جس کی تلافی برسوں لے سکتی ہے۔

 مزید ایک پہلو انسانی ہمدردی کا ہے۔ پاکستان میں چار دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین آباد ہیں، جن میں کئی خاندانوں کی تین نسلیں یہاں پروان چڑھ چکی ہیں۔ یہ مہاجرین ہماری قوم کے مہمان بنے، ہمارے محلے میں بسے اور ہمارے اقتصادی و سماجی دھارے کا حصہ بن گئے۔ وزیر دفاع کے اس بیان میں جہاں اس مہمان نوازی کی یاد دہانی کی گئی، وہیں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی نسلیں یہاں جوان ہو چکی ہیں اور اب انھیں دہشت گردی کے خلاف جانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

افغان مہاجرین کو بطور انسانی ہمدردی کے ساتھ دیکھنے کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں انصاف، حقوق اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست اپنے حقِ دفاع سے دستبردار ہو جائے، بلکہ یہ ضروری ہے کہ کسی بھی کارروائی میں عام افراد اور غیر جنگجو مہاجرین کو نقصان نہ پہنچے۔ اس تناظر میں عالمی انسانی تنظیموں اور مقامی سول سوسائٹی کا کردار کلیدی ہوگا کہ وہ سرحدی صورتحال میں انسانی حقوق اور بنیادی ضروریات کا تحفظ یقینی بنائیں۔

بیرونی شخصیات کا کردار بھی اس پورے معاملے کی پیچیدگی کو بڑھاتا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں اس بات کا تاثر ملتا ہے کہ وہ اس تنازعے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر فی الوقت مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔ یہ کہاوت بذات خود کئی معنی رکھتی ہے۔ ایک طرف امریکا کی غیر مداخلت سے پاک افغان تنازع کے حل سازی پر ازخود خطے کے ممالک کو زیادہ خود مختاری مل سکتی ہے، مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی طاقتوں کی مداخلت یا ثالثی کبھی کبھار مسئلے کے حل میں مدد دیتی ہے۔

امریکا نے ماضی میں خطے میں مختلف مواقع پر مداخلتیں کیں اور ان کا اثر متنازع رہا ہے، کسی بھی بیرونی مداخلت کو نہایت دانشمندی اور خطے کی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے اختیار کرنا ہوگا۔ مزید یہ کہ ریاستیں جب بھی کسی مسئلے میں ثالثی کرتی ہیں تو ان کی داخلی پالیسی، داخلی مفادات اور علاقائی مفاہمتیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی سطح پر ایسے اتحادیوں کی تلاش کرے جو اس کے قومی مفادات کو سمجھیں اور مذاکرات کی نجی نوعیت کو قائم رکھیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کے سخت الفاظ، جو انھوں نے مذاکرات ناکام ہونے پر ’’کھلی جنگ‘‘ کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استعمال کیے، ایک سنجیدہ و باریک بین پیغام ہے۔ یہ بیان دو حوالے سے اہم ہے۔ ایک، یہ داخلی نکتہ نظر سے عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ حکومت اور فوج مسائل کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہیں اور لازم ہوا تو سخت قدم اٹھائے جائیں گے، دوسرا، یہ بیرونی فریقین، خاص طور پر بھارت کو ایک واضح انتباہ بھی ہے کہ پاکستان اپنی سرحدی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

  استنبول میں ہونے والی مذاکراتی نشست میں ترکیہ اور قطر کا ثالثی کردار بھی اہم رہا ہے۔ قطر اور ترکیہ نے ماضی میں متعدد بار خطے میں ثالثی کے مثبت تجربات دیے ہیں اور ان کی شمولیت اس عمل کو بین الاقوامی حیثیت بھی دیتی ہے، یقینی شفافیت اور موثر مانیٹرنگ وہ کلیدی عناصر ہیں جو کسی بھی معاہدے کی کامیابی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے جتنی جلد ممکن ہو ایسا میکنزم تیار کیا جائے جو تیکنیکی اعتبار سے قابلِ تصدیق، غیر جانبدار اداروں کی نگرانی میں ہو اور جسے دونوں فریق قبول کریں۔

اس میں سیٹلائٹ نگرانی، مشترکہ انٹیلی جنس تبادلہ، مقامی کمیونٹی کی شمولیت، اور اقوامِ متحدہ یا دیگر بین الاقوامی اداروں کی شمولیت شامل ہو سکتی ہے تاکہ نفاذ کو شفاف بنایا جا سکے۔ دوسری جانب عالمی برادری کی موجودگی اور رد عمل بھی اہم ہے۔ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور دوسری بین الاقوامی تنظیمیں اس معاملے میں انسانی حقوق، مہاجرین کے تحفظ اور مذاکراتی عمل کی حمایت کے حوالے سے مناسب اقدامات کر سکتی ہیں۔

انسانی بنیادوں پر مدد، پناہ گزینوں کے حقوق کی حفاظت اور انسانی امداد کی فراہمی ایسی اہم چیزیں ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسئلے کے حل میں معاون اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور ترقیاتی بینک طویل المدتی ترقیاتی پیکیجز میں حصہ لے کر سرحدی علاقوں کی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ امن کی کوششیں صرف سرحدی اور عسکری حل تک محدود نہیں رہ سکتیں۔ ایک پائیدار امن کے لیے سیاسی حل، اقتصادی ترقی، تعلیمی اور سماجی شمولیت لازمی ہیں۔ افغان مسئلے کی ساخت میں نسلی، قبائلی اور تاریخی عوامل اہم ہیں۔

اس لیے مذاکرات میں ایسے شقوں کو شامل کیا جانا چاہیے جن میں مقامی رہنماؤں کی شمولیت، ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھنے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع شامل ہوں۔ اگر ہم اس موقع کو صحیح انداز میں استعمال کریں اور مذاکراتی میز کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، شفافیت، انسانی حقوق کے تحفظ، اور علاقائی تعاون کو مضبوط کریں تو یہ ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے جس میں نہ صرف سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ دو پڑوسی ممالک کے درمیان دیرپا باہمی اعتماد کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی استنبول میں کے درمیان کی شمولیت ضروری ہے کسی بھی ہیں اور سکتی ہے کیا جا کے لیے میں ہو اور ان

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار