خیبر پختونخوا، رواں برس دہشتگردی کے 1588 کیسز رپورٹ، بنوں سرفہرست
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی آئی ڈی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2025 کے دوران 14 اضلاع میں دہشت گردی کے 1588 واقعات رپورٹ ہوئے اور مختلف مقدمات میں 7 ہزار 111 ملزمان نامزد کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں رواں سال کے دوران دہشت گردی کے 1588 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور ضلع بنوں میں سب سے زیادہ واقعات پیش آئے جبکہ 7 ہزار سے زائد ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی آئی ڈی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2025 کے دوران 14 اضلاع میں دہشت گردی کے 1588 واقعات رپورٹ ہوئے اور مختلف مقدمات میں 7 ہزار 111 ملزمان نامزد کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ 394 کیسز بنوں میں رپورٹ ہوئے ہیں، شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے 181، پشاور میں 163، ڈی آئی خان میں 152 کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کے مطابق بنوں میں سب سے زیادہ 3 ہزار 437 ملزمان دہشت گردی کے مقدمات میں نامزد ہیں، اسی طرح شمالی وزیرستان میں887، ڈی آئی خان میں 865 ملزمان دہشت گردی کے مقدمات میں نامزد ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا دہشت گردی کے رپورٹ ہوئے مقدمات میں گردی کے 1588
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔