دشمن کو چھپ کر نہیں للکار کر مارتے ہیں، دہشت گردی پاکستان نہیں بھارت کا وطیرہ: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ عزت اور طاقت تقسیم سے نہیں، محنت اور علم سے ملتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں قومی علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ دفاعی معاہدہ تاریخی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اْنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا، جس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا تو انتشار اور فساد الارض نے وہاں جگہ لی۔ اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا۔ دہشت گردی پاکستان کا نہیں ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کے نہیں للکار کر مارتے ہیں۔ معرکہ حق میں اللہ کی نصرت سے کامیابی ملی، علماء قوم کو متحد رکھیں اور قوم کی نظر میں وسعت پیدا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔