وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا سزا یافتہ قیدی سے مطالبے پر اصرار آئین کی خلاف ورزی اور بلیک میلنگ قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ایک سزا یافتہ قیدی سے مشاورت کا مطالبے آئینی اور اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے آئین کے تحت یہ حلف اٹھایا تھا کہ وہ ایمانداری، دیانتداری سے اور آئین و قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں گے۔ تاہم صوبائی معاملات چلانے سے قبل ایک سزا یافتہ قیدی سے مشاورت کا مطالبہ ان کے اس حلف کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں کابینہ کی تشکیل، عمران خان نے سہیل آفریدی کو اہم پیغام پہنچا دیا
آئین کے مطابق وزیراعلیٰ کو صوبے کے انتظامی امور خودمختاری کے ساتھ چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ کسی نااہل یا بیرونی شخص سے رہنمائی لینا صوبائی خودمختاری اور آئینی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ایک ایسے شخص سے رہنمائی لینے پر اصرار جو متعدد مقدمات میں سزا یافتہ اور نااہل قرار دیا جا چکا ہے، آئینی حدود سے تجاوز ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں واضح طور پر قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 یا 63 کے تحت نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کی سربراہی نہیں کر سکتا اور نہ ہی پارلیمانی یا جماعتی معاملات میں کسی حیثیت سے مداخلت کر سکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ عمران خان کی 2022 کی نااہلی انہیں 2027 تک کسی بھی سیاسی یا قیادت کے عہدے کے لیے نااہل بناتی ہے۔
آئین یا کسی صوبائی قانون میں وزیراعلیٰ کو کسی سیاسی رہنما، بالخصوص قانونی طور پر نااہل شخص سے صوبائی امور میں مشاورت کرنے کا پابند نہیں بنایا گیا۔ اس نوعیت کی ہدایت آئین سے متصادم اور اخلاقی طور پر بھی ناقابلِ قبول ہے۔
خیبرپختونخوا پاکستان کے اہم ترین صوبوں میں سے ایک ہے اور اس کی حکمرانی کو کسی مجرم یا سزا یافتہ شخص کی ذاتی وفاداریوں یا سیاسی احکامات کا یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کی عمران خان سے پھر ملاقات نہ ہوسکی، توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان
صوبائی انتظام کو سیاسی مقاصد کے لیے معطل کرنا یا کسی نااہل رہنما کو خوش کرنے کے لیے گورننس متاثر کرنا نہ صرف قانون اور حکمرانی کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے بلکہ ریاستی اداروں کو بلیک میل کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلیک میلنگ سزا یافتہ قیدی سہیل آفریدی مشاورت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلیک میلنگ سزا یافتہ قیدی سہیل ا فریدی مشاورت وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز سزا یافتہ قیدی سہیل ا فریدی کے لیے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار