‘تیسری بار صدر بننا پسند کرونگا،’ امریکی آئین میں اجازت نہ ہونے کے باوجود ٹرمپ کی تیسری مدت کی خواہش
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تیسری مدت کے لیے صدارت کی خواہش ظاہر کر دی ہے، حالانکہ امریکی آئین کسی بھی صدر کو دو سے زیادہ مدتیں مکمل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، میں تیسری مدت میں بھی صدارت کرنا پسند کروں گا۔ میرے اعداد و شمار پہلے سے بہتر ہیں۔
ٹرمپ، جو جنوری میں اپنی دوسری مدت کے لیے عہدہ سنبھال چکے ہیں، پہلے بھی جلسوں میں تیسری مدت کے اشارے دیتے رہے ہیں۔ حال ہی میں وائٹ ہاؤس میں دیوالی کی تقریب کے دوران ایک شریک شخص ٹرمپ 2028 کی ٹوپی پہنے دیکھا گیا، جس نے ان قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی۔
دوسری جانب ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کی 22ویں ترمیم واضح طور پر کسی بھی شخص کو دو سے زیادہ بار صدر بننے سے روکتی ہے۔ مزید برآں، 12ویں ترمیم کے مطابق جو فرد صدر بننے کے لیے نااہل ہو، وہ نائب صدر کے لیے بھی اہل نہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ کچھ حامی انہیں قانونی راستے تلاش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن وہ خود اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر رہے۔ ان کے بقول، میں نے واقعی اس پر غور نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ اس وقت ایشیائی ممالک کے دورے پر ہیں، جہاں وہ آسیان اور ایپیک سربراہی اجلاسوں میں شرکت کے دوران عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی آئین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ا ئین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیسری مدت کے لیے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔