data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دن کا آغاز ناشتہ کے بغیر کرنا بظاہر ایک معمولی عادت لگتی ہے، مگر طبی ماہرین کے مطابق یہ طرزِ زندگی مستقبل میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ناشتہ ترک کرنے والے افراد میں میٹابولک سینڈروم سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے، یہ وہ کیفیت ہے جو دل، شوگر اور جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق میٹابولک سینڈروم دراصل کئی امراض کا مجموعہ ہے، جن میں پیٹ اور کمر کے گرد چربی کا اجتماع، بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر)، خون میں چکنائی یا کولیسٹرول کا بڑھ جانا، اور شوگر کی سطح میں اضافہ شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر دل کی ناکامی (ہارٹ فیلیئر) اور ذیابطیس جیسے امراض کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

جرنل نیوٹریشنز (Nutrients) میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق میں ماہرین نے مختلف مطالعات کا تجزیہ کیا، تاکہ ناشتہ نہ کرنے اور میٹابولک سینڈروم کے مابین تعلق کو سمجھا جا سکے۔ اس تجزیے میں نو تحقیقی رپورٹس شامل کی گئیں جن میں ایک لاکھ 18 ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا استعمال ہوا۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ ناشتہ نہ کرنے کی عادت رکھنے والوں میں میٹابولک مسائل عام پائے جاتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد کو ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر، اور توند نکلنے جیسے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ پانچ مختلف مطالعات سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ناشتہ ترک کرنے والوں میں بلند فشار خون اور بلند شوگر لیول دونوں زیادہ دیکھے گئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے جسم کی میٹابولک صحت متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں غذائی اجزاء کے جذب ہونے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے، جب کہ نقصان دہ کولیسٹرول (LDL) کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ نتائج اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ “ناشتہ واقعی دن کی سب سے اہم غذا ہے۔”

اگرچہ ماہرین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی تھی، جس میں براہِ راست وجوہات ثابت نہیں کی گئیں، تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب ایسی بات سامنے آئی ہو۔ اکتوبر 2025 میں جرنل کمیونیکیشنز میڈیسن میں شائع ایک مطالعے میں بتایا گیا کہ ناشتہ تاخیر سے کرنے یا چھوڑنے سے آئندہ دس برسوں میں قبل از وقت موت کا خطرہ 10 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

اسی طرح جرنل آف امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ایک بڑی تحقیق، جس میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد شامل تھے، میں معلوم ہوا کہ ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ 75 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو دل کے امراض یا فالج جیسے عوارض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسان کی غذا اور وقتِ طعام کا دل و دماغ کی صحت سے گہرا تعلق ہے۔ ان کے مطابق، ناشتہ ترک کرنا جسم کے فطری نظام کے خلاف عمل ہے جو وقت کے ساتھ خطرناک بیماریوں کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ ناشتہ نہ کرنے کے مطابق

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟