UrduPoint:
2026-07-24@01:48:49 GMT

باد مخالف کے باجود اقوام متحدہ بہتر دنیا کے قیام میں کوشاں

اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT

باد مخالف کے باجود اقوام متحدہ بہتر دنیا کے قیام میں کوشاں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 ستمبر 2025ء) گزشتہ سال بڑھتی بین الاقوامی کشیدگی، وسیع ہوتی جنگوں، معاشی مسائل اور موسمیاتی بحرانوں کے باوجود اقوام متحدہ نے فروغ امن، پائیدار ترقی اور انسانی مصائب میں کمی لانے کے اپنے مشن کو ثابت قدمی سے جاری رکھا۔

اقوام متحدہ کی کارکردگی کے بارے میں آج جاری ہونے والی سیکرٹری جنرل کی رپورٹ سنگین عالمگیر مسائل کی موجودگی میں اقوام متحدہ کے مقاصد کی تکمیل سے متعلق کوششوں کی سنجیدہ مگر پرعزم تصویر پیش کرتی ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے یہ رپورٹ ادارے کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں اعلیٰ سطحی ہفتے کے آغاز سے قبل پیش کی ہے۔ انہوں نے مشکل حالات میں بھی خدمات انجام دینے والے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی ہمت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہایت کٹھن حالات کے باوجود بہتر دنیا کے لیے کوشش جاری رکھی جا سکتی اور رکھنی چاہیے کیونکہ ایسی دنیا انسان کی دسترس میں ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے دنیا بھر میں 198 ملین افراد کی امدادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 50 ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی۔ ادارے کو اس ضمن میں نصف وسائل (25 ارب) ڈالر حاصل کرنے میں کامیابی ملی جن سے 77 ممالک اور علاقوں میں 116 ملین ضرورت مند لوگوں کو امداد پہنچائی گئی۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کے عملے اور انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکنوں کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز برس ثابت ہوا جب عسکری کارروائیوں میں 373 امدادی کارکنوں کو ہلاک کیا گیا۔

ان میں سے بیشتر کا تعلق فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) سے تھا۔

رپورٹ کے اجرا پر سیکرٹری جنرل نے ان کارکنوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور دنیا کے سب سے زیادہ کمزور طبقات کا ساتھ دینے کے لیے اقوام متحدہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

UN Photo/Loey Felipe اقوام متحدہ کا بنیادی مشن

امن و سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے عالمی مسائل کے باوجود سفارت کاری برائے امن اقوام متحدہ کے کام کا مرکزی ستون رہی۔

خطرات کے باوجود ادارے کی سفارتی کوششوں نے روزانہ لاکھوں شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا اور امن عمل کو آگے بڑھایا۔

شام میں سیاسی تبدیلی کے دوران اقوام متحدہ نے تشدد میں کمی لانے، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی کشیدگی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے فریقین سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے تحت رابطہ رکھا۔

اسی دوران، اقوام متحدہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، غزہ و مغربی کنارے اور وسیع تر خطے میں تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کی تاکہ تشدد کو ختم کیا جائے، انسانی امداد کی رسائی بہتر بنائی جا سکے اور متاثرہ لوگوں کو امداد کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔

اقوام متحدہ نے لبنان میں بھی کشیدگی کا خاتمہ کرنے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے تحت قیام امن کے لیے کام کیا جس کی بدولت بلیو لائن کے دونوں طرف رہنے والے لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکے۔

اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں امن مذاکرات کے لیے سہولت کاری، ریاستی بحالی میں معاونت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے۔ ابیئی میں پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کے نتیجے میں بین النسلی تشدد میں کمی دیکھی گئی۔

قیام امن فنڈ کے ذریعے 32 ممالک اور علاقوں میں امن منصوبوں بالخصوص صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے اقدامات میں تعاون کے لیے 116 ملین ڈالر سے زیادہ رقم مختص کی گئی۔ علاوہ ازیں، علاقائی تنظیموں، جیسا کہ افریقن یونین کے ساتھ شراکت داری نے تنازعات کی روک تھام کے اقدامات کو مزید مضبوط کیا۔

UN Photo/Loey Felipe مستقبل کا نیا تصور

گزشتہ سال منعقد ہونے والی 'کانفرنس برائے مستقبل' کثیرالملکی تعاون کے لیے تاریخی موڑ ثابت ہوئی۔

اس موقع پر عالمی رہنماؤں نے معاہدہ برائے مستقبل' کی منظوری دی جس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کو ازسرنو تقویت دینا اور انسانوں اور کرہ ارض کو درپیش مسائل کا دیرپا حل فراہم کرنا ہے۔

یہ معاہدہ سفارت کاری کو مضبوط بنانے، تنازعات کی روک تھام، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، ہنگامی موسمیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی جانب تیزرفتار پیشرفت پر زور دیتا ہے۔

اس میں مزید مؤثر اور نمائندہ عالمی انتظام کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے جس میں سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کو خاطرخواہ نمائندگی دینے کے وعدے شامل ہیں۔

اس معاہدے کے ساتھ دو اہم دستاویزات کو بھی بطور ضمیمہ منظور کیا گیا جن میں 'عالمی ڈیجیٹل معاہدہ' اور 'آئندہ نسلوں کے لیے اعلامیہ' شامل ہیں۔

اول الذکر معاہدہ محفوظ، کھلے اور مشمولہ ڈیجیٹل مستقبل کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

یہ رکن ممالک کو ڈیجیٹل فرق ختم کرنے، سبھی کے لیے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور ڈیٹا و مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کا پابند بناتا ہے۔

موخر الذکر پہلا عالمی معاہدہ ہے جس کا مقصد دور حاضر میں لیے جانے والے فیصلوں میں آئندہ نسلوں کے حقوق اور مفادات کو منظم طریقے سے شامل کرنا ہے۔ یہ پالیسی سازی میں مستقبل بینی کو جگہ دیتا اور طویل مدتی و پائیدار اقدامات کی راہ ہموار کرتا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ دور حاضر کے اہم مسائل کو حل کر کے مزید مساوی اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند بنانے کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

© COPAC انسانی حقوق و پائیدار ترقی

اقوام متحدہ کا رہنما تصور یہ ہے کہ انسانی حقوق عالمی سطح پر درپیش مسائل کے حل کی قوت اور امن، انصاف اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔

2024 میں اقوام متحدہ نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے، دیہی اور محروم طبقات کو بااختیار بنانے اور قیام امن و آئینی عمل میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کو آگے بڑھایا۔

تنازعات، مہاجرت، موسمیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل انتظامات سے متعلق اقدامات میں انسانی حقوق کو بھی شامل کیا گیا جس سے اقوام متحدہ کے کام میں تحفظ، جوابدہی اور شمولیت کو تقویت ملی۔

اسی دوران پائیدار ترقی اور موسمیاتی اقدامات بھی اقوام متحدہ کی ترجیحات میں شامل رہے۔ ادارے نے 170 ممالک کو ان کے طے شدہ قومی موسمیاتی اقدامات (اہداف) کے نفاذ میں معاونت فراہم کی۔

ادارے نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات پر زور دیا تاکہ 'ایس ڈی جی' کے لیے مالی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور کمزور ترین ممالک کو 2030 کے ایجنڈا برائے ترقی میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا منصفانہ موقع فراہم ہو سکے۔

© UNICEF/Eyad El Baba انسانیت کے لیے عزم

سیکرٹری جنرل نے غیرمعمولی خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں انجام دینے والے اقوام متحدہ کے عملے کو سراہا اور امداد کی فراہمی کے اصولوں کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے مسلح تنازعات کے دوران شہریوں، ہسپتالوں، سکولوں اور امدادی کارکنوں پر منظم حملوں کی مذمت کی جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پامالی کے مترادف ہیں۔

انتونیو گوتیرش نے کہا، یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ اگرچہ دنیا نہایت کٹھن دور سے گزر رہی ہے لیکن اقوام متحدہ امن کے قیام، پائیدار ترقی کے فروغ اور انسانی حقوق کے دفاع و تحفظ کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ کے اقوام متحدہ نے سیکرٹری جنرل پائیدار ترقی سلامتی کو کے باوجود ممالک کو کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف