حیدرآباد کے وکلاء کا آٹھویں روز بھی عدالتی بائیکاٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
— فائل فوٹو
حیدرآباد میں گزشتہ 8 روز سے وکلا ء کے عدالتی بائیکاٹ کی وجہ سے سائیلین کی پریشانی میں اضافے کا سبب بن گیا۔
صدر ڈسٹرکٹ بار حیدر آباد نے کہا ہے کہ ایس ایس پی فرخ لنجار کے تبادلے تک احتجاج جاری رہے گا۔
وکیل پر مقدمے کے اندراج سے پولیس اور وکلاء میں کشیدگی شروع ہوئی تھی جس کے بعد قومی شاہراہ پر وکلاء نے 6 سے 8 فروری تک دھرنا بھی دیا تھا۔
حیدرآباد میں وکلاء سیشن کورٹ، سول کورٹ اور ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔
یہ دھرنا ایس ایس پی فُرخ لنجار کے 8 روز کی چھٹیوں پر جانے کے بعد ختم ہوا تھا۔
20 فروری کو ایس ایس پی فُرخ لنجار کے چھٹیوں سے واپس آنے کے بعد سے وکلاء نے دوبارہ عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں