UrduPoint:
2026-07-24@13:42:07 GMT

تین ماہ کے تعطل کے بعد نجی افغان ٹی وی چینل بحال

اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT

تین ماہ کے تعطل کے بعد نجی افغان ٹی وی چینل بحال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 01 مارچ 2025ء) صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری افغان تنظیم 'افغان جرنلسٹس سینٹر‘ (اے ایف جے سی) کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ تقریباﹰ تین ماہ کی معطلی کے بعد کابل میں قائم نجی ٹی وی چینل 'آرزو ٹی وی‘ نے دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق ایک اور میڈیا ایڈووکیسی گروپ کے سربراہ حجت اللہ مجددی نے بھی کی۔

اے ایف جے سی کے مطابق آرزو ٹی وی کی بحالی کی اجازت افغانستان میں حکمرانطالبان کی نیکی کے فروغ اور بدی کی روک تھام کی سرکردہ وزارت نے دی، جس کے بعد آرزو ٹی وی کے آفس پر لگائی سیل ہٹا دی گئی۔

(جاری ہے)

اے ایف جے سی کے مطابق اس ٹی وی چینل کے سربراہ بصیر عابد نے اسے بتایا کہ ان کے ادارے کے تمام ملازمین کو دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت ہے اور آرزو ٹی وی کی بحالی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی شرائط عائد نہیں کی گئیں۔

اس ٹی وی چینل کو طالبان نے پچھلے سال دسمبر میں بند کر دیا تھا اور ساتھ ہی اس کے سات کارکنوں کو عارضی طور پر گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں تحریری ضمانت پر ان کارکنوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔

آرزو ٹی وی کو مبینہ طور پر غیر ملکی ٹی وی چینلوں کے ساتھ تعاون اور ایسے پروگرام نشر کرنے کے الزام میں بند کیا گیا تھا، جو طالبان کے مطابق اسلامی اصولوں کے منافی تھے۔

اے ایف جے سی نے آرزو ٹی وی کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی بندش کو میڈیا کے ایک آزاد ادارے کے حقوق کی ''واضح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی اس تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طالبان افغانستان میں میڈیا اداروں کو بغیر کسی پابندی اور خطرے کے، آزادی سے کام کرنے کی اجازت دیں۔

کچھ عرصہ قبل طالبان نے خواتین کے ایک ریڈیو اور ایک یوتھ ریڈیو اسٹیشن کی نشریات کی بحالی کی اجازت بھی دے دی تھی۔ ان دونوں نشریاتی اداروں کو اپنے اپنے لائسنس کے غلط استعمال اور ایسے غیر ملکی میڈیا چینلز کے ساتھ تعاون کے الزام میں معطل کیا گیا تھا، جن پر افغانستان میں پابندی عائد ہے۔

م ا / م م (ڈی پی اے)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اے ایف جے سی ا رزو ٹی ٹی وی چینل کی بحالی کی اجازت گیا تھا

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت

قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں. 

بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا

یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ  کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔

بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔

افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع