واشنگٹن: امریکا نے یوکرین کو خفیہ انٹیلیجنس معلومات اور ہتھیاروں کی ترسیل عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی کے درمیان اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

ریٹکلف نے فاکس بزنس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "صدر ٹرمپ کو شبہ تھا کہ زیلنسکی واقعی امن عمل کے لیے سنجیدہ ہیں یا نہیں، اسی وجہ سے انٹیلیجنس سپورٹ روکنے کا فیصلہ کیا گیا"۔

امریکی حکام کے مطابق، اس فیصلے کے نتیجے میں یوکرین کے لیے جاسوسی پروازوں اور نگرانی کی سرگرمیوں میں بھی کمی کر دی گئی ہے، جس سے یوکرین کی دفاعی اور جارحانہ کارروائیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یوکرین کی فوج امریکی انٹیلیجنس پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے، خاص طور پر میدان جنگ میں صورتحال کا تجزیہ کرنے اور دشمن کے حملوں کی پیش گوئی کے لیے۔

ریٹکلف نے اشارہ دیا کہ اگر زیلنسکی امریکی صدر کو امن کی یقین دہانی کراتے ہیں تو یہ معطلی جلد ختم کی جا سکتی ہے۔

ادھر امریکی اور یوکرینی حکام اس فیصلے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ سی این این نے رپورٹ کیا کہ دونوں ممالک کے فوجی حکام امداد کے تعطل سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کے اندر یوکرین کی حمایت پر شدید بحث جاری ہے اور صدر ٹرمپ کی نئی پالیسیوں کے تحت یوکرین کی مدد میں ممکنہ کمی متوقع ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یوکرین کی

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق