پاکستان، چین اور روس خفیہ ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، چین اور روس خفیہ طور پر ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ واحد بڑی طاقت ہے جو ان تجربات سے باز ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے “60 منٹس” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے پینٹاگون کو ہدایت دی ہے کہ ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “شمالی کوریا، پاکستان اور دیگر ممالک ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، لیکن وہ اس بات کو ظاہر نہیں کرتے۔”
ان بیانات کے بعد عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ شاید امریکہ 1992 کے بعد پہلی مرتبہ نیا ایٹمی تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس اتنا طاقتور ایٹمی ذخیرہ ہے جو “دنیا کو 150 بار تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے”، تاہم ان کے مطابق، نئے تجربات ضروری ہیں تاکہ “ان ہتھیاروں کی کارکردگی کو جانچا جا سکے۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ “روس اور چین خفیہ طور پر تجربات کر رہے ہیں، جبکہ ہم واحد ملک ہیں جو ایسا نہیں کر رہے، اور میں نہیں چاہتا کہ یہ صورتحال برقرار رہے۔”
ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ شفافیت پر یقین رکھتا ہے۔ “ہم کھلا معاشرہ ہیں، عوام کے سامنے سب کچھ رکھتے ہیں۔ اگر دیگر ممالک تجربات کر رہے ہیں تو ہمیں بھی اسی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے،” انہوں نے کہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تجربات کر رہے ہیں ایٹمی تجربات
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔