سینیٹ میں پی ٹی آئی کا عون عباس بپی کی گرفتاری پر واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
پی ٹی آئی سینیٹرز نے آج ہونے والے اجلاس سے عون عباس بپی کی گرفتاری پر احتجاجاً واک آؤٹ کردیا۔ پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عون عباس بپی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور ہمارے پاس اس کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس ایوان کی کوئی توقیر یا تقدس ہے؟ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ سینیٹر عون عباس کو آج کے اجلاس میں بات کرنے سے روکا گیا تھا۔ اس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے آج ہی مفصل رپورٹ طلب کر لی۔
جمعرات کو ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، دوران اجلاس سینیٹر عون عباس بپی کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی ارکان نے سینیٹ سے واک آؤٹ کر دیا۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عون عباس بپی کی اس ہاؤس میں اتنی ہی عزت ہے جتنی سب کی، اس ہاؤس کو کسی کے دباؤ یا پریشر میں آ کر نہیں چلائیں گے، سینیٹ کا اجلاس قانون کے تحت چلے گا۔
وزیر قانون اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عون عباس بپی پر مقدمہ وائلڈ لائف کے تحت کیا گیا، معزز رکن پر مقدمہ صوبائی معاملہ ہے، جس حد تک ممکن ہوا صوبائی حکومت سے معزز رکن کیلئے بات کریں گے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہا کہ اس ایوان کے ایک اور رکن کو آج اٹھا لیا گیا ہے، سینٹر عون عباس بپی کو آج صبح ساڑھے 8 بجے اٹھایا گیا ہے، کیا عون عباس بپی کو اٹھانے سے قبل چیئرمین سینٹ کو بتایا گیا تھا؟
شبلی فراز نے کہا کہ عون بپی کے گھر کے اندر سے گرفتاری کی ویڈیوز ہمارے پاس ہیں، ان کے گھر میں شدید توڑ پھوڑ کی گئی ہے، اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد بھی انہیں نہیں لایا جا رہا۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ عون عباس بپی ہمارے کولیگ ہیں، جب تک وہ ایوان میں نہیں آتے، کارروائی معطل کر دیں۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عون عباس بپی کی کہ عون عباس بپی نے کہا کہ عون کی گرفتاری
پڑھیں:
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس؛ ہزاروں جعلی پاسپورٹس بننے کا انکشاف
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس؛ ہزاروں جعلی پاسپورٹس بننے کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 24 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ہزاروں جعلی پاسپورٹس بننے کا انکشاف ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹر فیصل سلیم کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورت حال پر بھی بات چیت کی گئی۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر بریفنگ کے لیے وزیرداخلہ کو ہونا چاہیے تھا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم نے پختونخوا کے ہوم سیکرٹری اور آئی جی کو بلایا تھا، دونوں ہی نہیں آئے، جس پر اسپیشل ہوم سیکرٹری کے پی نے بتایا کہ آئی جی کے پی اور ہوم سیکرٹری کابینہ میٹنگ میں ہیں، اس لیے نہیں آ سکے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس ایجنڈے کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر کے پی حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ یہ جو پریزنٹیشن دی جارہی ہے اس کی دستاویزات ہمارے پاس ہونی چاہییں تھی، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمیں اس پر مکمل بریفنگ دی جائے، یہ بریفنگ مکمل نہیں ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ امن وامان کے مسئلے پر پہلے نیکٹا سے بریفنگ لے لیں اس کے بعد صوبوں میں چلے جائیں۔ 15 دن پہلے ایجنڈا بھیجا جاتا ہے۔ جب آپ 15 دن پہلے ایجنڈا نہیں بھیجیں گے تو پورا کام نہیں ہوسکتا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم ایجنڈا آپ سے پوچھ کر نہیں رکھ سکتے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اس وقت بھارت کے ساتھ چپقلش چل رہی ہے، کسی دن کسی وقت کوئی بھی شرارت ہوسکتی ہے۔ اگر اس طرح کی کوئی شرارت ہوتی ہے تو بتایا جائے صوبوں میں کیا تیاری ہے۔
لیویز حکام نے کہا کہ لسبیلہ، حب سمیت چار ڈسٹرکٹس کو بی ایریا سے نکال کر اے ایریا میں ڈال دیا گیا ہے۔
سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ لیویز کی بہت ساری بندوقیں چلتی ہی نہیں۔ لیویز اہلکاروں کے پاس رائفلیں ہیں تو گولیاں نہیں ہیں، جس پر وزیر مملکت نے کہا کہ لیویز کی حاضری 50 فیصد سے بھی کم ہے۔ لیویز کو ہم نے مضبوط نہیں کیا، کپیسٹی بلڈنگ نہیں کی۔
جعلی پاسپورٹس کا معامہ
اجلاس میں سینیٹر عرفان نے استفسار کیا کہ بتایا جائے پچھلے 5سالوں میں کتنے ایسے پاسپورٹ بنے جو پاکستانیوں کے نہیں تھے، جس پر ڈی جی پاسپورٹ مصطفی جمال قاضی نے بتایا کہ 1296پاسپورٹس سعودی عرب سے رپورٹ ہوئے جو غیرملکیوں نے پاکستان بھجوائے۔ اس کے علاوہ 45 کیسز مزید آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان میں زیادہ تر پاسپورٹس کے پی اور گجرانوالہ گجرات سے ہیں۔ 4500پاسپورٹس ایسے ہیں جن کا ہمارے پاس ڈیٹا ہی نہیں ہے۔ 3ہزار پاسپورٹس فوٹو سویپ کرکے بنائے گئے ہیں۔ 6ہزار نادرا کے ڈیٹا میں انٹروژن کرکے جعلی بنائے گئے۔ یہ 12ہزار جعلی پاسپورٹس رکھنے والے پاکستان میں نہیں ہیں۔
ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کو افغانستان ڈی پورٹ کردیا گیاہے۔ جن لوگوں کو جعلی پاسپورٹس بنانے پر سزائیں دی گئیں ان میں سے 35 اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمریم نواز سے ایتھوپیا کے سفیر کی ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر زور مریم نواز سے ایتھوپیا کے سفیر کی ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر زور پی آئی اے کی نجکاری کا عمل ، حکومت نے اشتہار جاری کر دیا پاکستان کی جانب سے واہگہ بارڈر تاحال کھلا، بھارت سے شہریوں کی آج واپسی کا امکان پہلگام واقعہ: نازک موقع پر پوری قوم اور حر جماعت اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہے: پیر پگارا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی مندی کے ساتھ کاروبار کا آغاز بھارتی اقدامات کا جواب دینے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم