فائنل میں نیوزی لینڈ کو 4وکٹوں سے شکست، بھارت نے تیسری بار چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
فائنل میں نیوزی لینڈ کو 4وکٹوں سے شکست، بھارت نے تیسری بار چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 March, 2025 سب نیوز
دبئی (سب نیوز)آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025کے فائنل میں نیوزی لینڈ نے بھارت کو جیت کے لیے 252رنز کا ہدف دے دیا، کیویز نے پہلے بلے بازی کرتے مقررہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 251 رنز بنائے۔
دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کیوی اوپنرز نے ٹیم کو 57 رنز کا آغاز فراہم کیا جس کے بعد اوپنر ول ینگ 23 گیندوں پر 15 رنز بنانے کے بعد ورون چکرورتی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔69کے مجموعی اسکور پر رچن روندرا 29 گیندوں پر 37 رنز بنانے کے بعد کلدیپ یادو کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے جبکہ 75 کے مجموعی اسکور پر کین ولیمسن صرف 11 رنز بنانے کے بعد کلدیپ یادو کو انہی کی گیند پر کیچ تھما بیٹھے۔
نیوزی لینڈ کی چوتھی وکٹ بھارتی اسپنر روندرا جدیجہ کے حصے میں آئی جنہوں نے 108 کے مجموعی اسکور پر ٹام لیتھم کو ایل بی ڈبلیو کردیا انہوں نے 30 گیندوں پر 14 رنز بنائے۔165کے مجموعی اسکور پر گلین فلپس 52 گیندوں پر 34 رنز بنانے کے بعد ورون چکرورتی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔
بھارت کے خلاف نیوزی لینڈ کی چھٹی وکٹ 211 رنز پر گری جب ڈیرل مچل 63 رنز کی اننگ کھیل کر محمد شامی کی گیند پر آوٹ ہوئے۔ بھارت کے خلاف نیوزی لینڈ کی ساتویں وکٹ 239 رنز پر گری اور کپتان مچل سینٹنر 8 رنزبناکر رن آوٹ ہوئے۔کیوی آل راونڈر مائیکل بریس ویل نے آخری لمحات میں کچھ ہمت دکھائی اور جارحانہ اسٹروکس کھیلے، وہ 40گیندوں پر 53ر نز بناکر ناٹ آوٹ رہے، وہ 2 چھکے اور 3چوکے لگانے میں کامیاب رہے۔اس طرح پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے 7 وکٹوں کے نقصان پر 251 رنز اسکور کیے۔بھارت کی طرف سے کلدیپ یادو اور ورون چکرورتھی نے 2، 2، رویندرا جڈیجا اور محمد شامی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں نیوزی لینڈ
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین