دریائے سندھ سے نہریں نکلنے کا یکطرفہ فیصلہ، صدرمملکت نے وفاق کو خبردارکیا،بلاول
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہاہے کہ اپوزیشن کے رویے سے لگتا ہے کہ انہیں عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں۔ آج اپوزیشن کا شورہوتا رہا اور صدر نے اپنی تقریرجاری رکھی۔
پارلیمنٹ میں گفتگوکرتے ہوئے بلاول بھٹونے کہا کہ آج صدرزرداری نے تاریخی خطاب کیا ہے، آصف زرداری پہلے صدرہیں جنہوں نےآٹھویں بار پارلیمان سے خطاب کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ صدر نے خطاب میں حکومت کی معیشت میں بہتری کے حوالے سے تعریف کی، صدر مملکت نے مسائل کے ساتھ نشاندہی بھی کی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اپوزیشن غیرسنجیدہ ہے، اپوزیشن کے رویے سے لگتا ہے کہ انہیں عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن کیلئے عوامی مسائل کا حل ان کی ترجیح نہیں ہے، اپوزیشن کا مقصد صرف اپنی سیاست چمکانا ہے، آج اپوزیشن کا شورہوتا رہا اور صدر نے اپنی تقریرجاری رکھی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاق کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے انہوں نے وفاق کو خبردارکیا، دریائے سندھ سے نہریں نکلنے کے یکطرفہ فیصلے پربات کی۔
انھوں نے کہا کہ صدر نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس پالیسی کو سپورٹ نہیں کرینگے، صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس متنازع منصوبے کو ترک کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔