پاکستانی سفیر کو لاس اینجلس ایئرپورٹ سے واپس بھیجنے کا معاملہ، تحقیقات شروع
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ترکمانستان میں پاکستان کے سفیر احسن واگن کو لاس اینجلس ایئرپورٹ سے واپس بھجوانے کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور وزارت خارجہ نے اس واقعہ کے بارے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار جو وزیر خارجہ بھی ہیں اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کو تمام متعلقہ تفصیلات سے آگاہ کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام کی اس معاملے کو امریکی حکام کے ساتھ اٹھانے کے بارے میں بھی پشرفت کا آغاز ہوگیا ہے تاکہ مکمل اور مصدقہ وجوہات کا علم ہونے پر سفارتی سطح پر اس معاملے کو حل کیا جاسکے۔
دریں اثناء وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس واقعہ کے حوالے سے اپنے ردعمل میں پاکستانی سفارتکار کو امریکل میں داخلے سے روکنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتکار نجی دورے پر امریکہ جارہے تھے اس سارے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے جانچ پڑتال کا سلسلہ شروع کیا جاچکا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
دریں اثناء اس ضمن میں ذرائع سے موصولہ تفصیلات کے مطابق پاکستانی سفیر احسن واگن کے تمام ٹریولنگ ڈاکومنٹس مکمل اور درست تھے لیکن ان کے ویزے میں کچھ ایسے ریفرنسز تھے جو ویزہ آن لائن چیک کرنے سے سامنے آئے جس باعث انہیں اگلی فلائٹ سے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔