مفت سولر سسٹم سکیم:خیبر پختونخوا میں بھی لاکھوں درخواستیں موصول
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک : خیبر پختونخوا میں بھی مفت سولر سسٹم اسکیم کے لیے 25 لاکھ 38 ہزار درخواستیں موصول ہو گئیں۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر اسفندیار نے مفت سولر سسٹم کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قرعہ اندازی کے بعد ایک لاکھ 30 ہزار گھرانوں کو مفت سولر سسٹم دیں گے جبکہ قرعہ اندازی کے بعد احساس اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے تصدیق کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سسٹم میں 585 واٹ سولر پلیٹ، ایک بیٹری، 3 بلب اور 2 پنکھے شامل ہیں۔ جبکہ سسٹم میں انورٹر کی جگہ ایک چارجر دیا جائے گا۔
جعفر ایکسپریس حملہ ؛ نہتے شہریوں اور مسافروں پر حملے غیر اِنسانی اور مذموم عمل ہے؛ صدر مملکت
اسفندیار نے کہا کہ سولر سسٹم نصب کرنے پر 2 لاکھ 4 ہزار روپے خرچہ آئے گا۔ 65 ہزار شہریوں کو مفت اور 65 ہزار کو سبسڈائز ریٹ پر سسٹم دیں گے۔
خرچ کے حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سولرائزیشن منصوبے پر 20 ارب روپے خرچ ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مفت سولر سسٹم کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔