اسلام آباد:

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ اس وقت خطے اور علاقائی سطح پر بہت سے مسائل درپیش ہیں اور ہم امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان سے سیکریٹری خارجہ امور آمنہ بلوچ نے ملاقات کی جہاں مختلف امور تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈپٹی چیئرمین سیدال خان نے بتایا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی  خطے اور عالمی امن کے فروغ اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے پر مرکوز ہے، پاکستان کے تشخص کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں پاکستان کے وزارت خارجہ کی کاوشیں لائق تحسین ہیں اور سیکریٹری خارجہ کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت خطے اور علاقائی سطح پر بہت سے مسائل درپیش ہیں، جامع اور مضبوط خارجہ پالیسی کی بدولت ہی پاکستان عالمی برادری میں اپنا نام بنا رہا ہے اور اپنا لوہا منوایا ہے۔

سیدال خان کا کہنا تھا کہ ہم خطے اور علاقائی سطح پر امن کے خواہاں ہیں، امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور وہ مسائل جو خطے کے امن کو سبوتاژ کرسکتے ہیں ان کا حل انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں واضح ہیں، ان قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، پاکستان عالمی سطح پر کشمیر اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرتا رہے گا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اپنا دہرا معیار ترک کرے اور فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق حل نکالا جائے۔

اس موقع پر سیکریٹری خارجہ نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کو وزارت خارجہ کے کام کے طریقہ کار اور کارکردگی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈپٹی چیئرمین سیدال خان خطے اور امن کے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی