اسٹاک مارکیٹ میں ہزاروں پوائنٹس کی بدترین مندی
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 24 مارچ 2025ء ) اسٹاک مارکیٹ میں ہزاروں پوائنٹس کی بدترین مندی، حکومتی دعووں اور اعلانات کے باوجود بجلی سستی نہ ہونے کا نتیجہ، کاروباری ہفتے کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ میں 3 نفسیاتی حدیں گر گئیں۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی کے نرخوں اور پراپرٹی ٹیکسز میں کمی نہ کیے جانے کے خدشات کی وجہ سے پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج ہل کر رہ گئی۔
کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، 300 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 18 ہزار 797 پوائنٹس کی حد کو چھو گیا۔ بعدازاں ٹریڈنگ کے دوران سٹاک مارکیٹ منفی زون میں چلی گئی، شدید مندی کے باعث انڈیکس ایک لاکھ 17 ہزار پوائنٹس کی حد بھی کھو بیٹھا، کاروباری دن کے اختتام پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس 2002 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 16 ہزار 439 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔(جاری ہے)
دوسری جانب کرنسی مارکیٹ میں ڈالر بھی مہنگا ہو گیا۔ انٹربینک میں آج روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک میں امریکی کرنسی کی قیمت میں 11 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث انٹربینک میں ڈالر 280 روپے 37 پیسے پر بند ہوا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سٹاک مارکیٹ میں پوائنٹس کی
پڑھیں:
دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
لاہور:دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ چنیوٹ میں سیم نہر میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد فصلیں زیر آب آگئیں۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 48 ہزار 650 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 50 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے چار فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
دوسری جانب، چنیوٹ میں جھنگ روڈ بائی پاس کے قریب کانجو موڑ پر سیم نہر میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں کئی ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث نہر میں پانی کا دباؤ بڑھا، جس سے شگاف پیدا ہوا۔
اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، جبکہ نہر کے شگاف کو پر کرنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی جاری ہے۔
ادھر ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاوں کا بہاؤ مستحکم رہا۔
دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا 3 لاکھ 42 ہزار، کالا باغ 3 لاکھ 9 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 93ہزار کیوسک ہے۔
مزید پڑھیںبھارت کی جانب سے آبی جارحیت، دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، الرٹ جاری
پنجاب میں مون سون کا سلسلہ برقرار، مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے جس کے بعد سیلابی صورتحال اونچے سے درمیانے درجے پر آگئی ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے دجے کا سیلاب ہے۔
ہیڈ مرالہ کی مقام پر پانی کا بہؤ 2 لاکھ 8 ہزار، خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 65 ہزار اور قادر آباد کے مقام پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہاؤ بھی نارمل ہے۔
نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ارا کینٹ بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے اور وزیر آباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
دوسری جانب، دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رک چکی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے دریائے چناب میں بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔
ڈی جی نے ہدایت کی کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، حکومت پنجاب کی جانب سے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامات مکمل ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔