جیل میں بند رکن پارلیمنٹ انجینیئر رشید کو دہلی ہائی کورٹ نے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس چندردھاری سنگھ اور جسٹس انوپ جئے رام بھامبھانی نے انجینیئر رشید کی عرضی پر سماعت کی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے بارہمولہ سے رکن پارلیمنٹ عبدالرشید شیخ یعنی انجینیئر رشید کو پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں شامل ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل "ٹی وی 9 ہندی ڈاٹ کام" پر شائع رپورت کے مطابق دہلی ہائی کورٹ میں انجینیئر رشید کی عرضی پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے راحت دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ پولیس سیکورٹی میں وہ پارلیمانی اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ طویل سماعت کے بعد انجینیئر رشید کو 4 اپریل تک ختم ہو رہے بجٹ اجلاس میں شامل ہونے کی یہ اجازت حاصل ہوئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس چندردھاری سنگھ اور جسٹس انوپ جئے رام بھامبھانی نے انجینیئر رشید کی عرضی پر سماعت کی۔ جسٹس بھامبھانی نے انجینیئر رشید کو راحت دیتے ہوئے یہ مشورہ بھی دیا کہ پارلیمنٹ کے سکریٹری جنرل سے گزارش کر انجینیئر رشید کے ساتھ ایک پولیس کو بھی پارلیمنٹ میں رہنے کی منظوری لی جا سکتی ہے۔
آج دہلی ہائی کورٹ میں انجینیئر رشید کی طرف سے سینیئر وکیل ہریہرن نے دلیلیں رکھیں۔ انہوں نے انجینیئر رشید کی طرف سے کہا کہ بطور رکن پارلیمنٹ میرا فرض بنتا ہے کہ میں پارلیمنٹ کی کارروائی میں شامل ہو سکوں۔ عدالتی کارروائی کے دوران انجینیئر رشید کی قانونی ٹیم نے حراستی پیرول کے لئے دلیل دی، جس سے انہیں مسلح پولیس کے ذریعہ ایسکارٹ کرتے ہوئے پارلیمانی اجلاس میں حصہ لینے کی اجازت مل سکے، جیسا کہ انہیں پہلے 2 دن کی اجازت دی گئی تھی۔ جسٹس بھامبھانی نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سے سماعت کے دوران یہ سوال کیا کہ کیا سادے لباس میں ایک پولیس انجینیئر رشید کے ساتھ ایوان میں رہ سکتا ہے۔ اس پوری گفتگو کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا اور پھر پولیس حراست میں انجینیئر رشید کو پارلیمنٹ جانے کی اجازت مل گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انجینیئر رشید کی انجینیئر رشید کو بھامبھانی نے اجلاس میں کی اجازت
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔