اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
کراچی:
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نئی بلندیوں تک پہنچادیا۔
عید کی تعطیلات کے بعد جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 180 ملکوں پر جوابی ٹیرف کے نفاذ کے اثرات اور سرمایہ کاروں میں خدشات وزیر اعظم کے بجلی کے نرخوں میں کمی کی وجہ سے زائل ہوگئے۔
اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام 1131.
تعطیلات کے بعد پہلے کاروباری روز کا آغاز ملے جلے رجحان پر ہوا جہاں امریکی صدر کی جانب سے پاکستان سمیت 180 ملکوں پر جوابی ٹیرف کے تجارتی اثرات نے سرمایہ کاروں کو خدشات سے دوچار کردیا، جس سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
کاروباری دن کے ابتدائی سیشن میں انڈیکس ایک لاکھ17ہزار 508 پوائنٹس کی کاروباری سیشن کی کم سطح پر بھی دیکھا گیا تاہم وزیر اعظم کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کے اعلان نے مندی کے اثرات زائل کردیے۔
اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر 28 ارب 21 کروڑ 13 لاکھ57 ہزار روپے سے زائد مالیت کے 42کروڑ 27لاکھ سے زائد حصص کا کاروبار ہوا اور مارکیٹ کے مجموعی سرمائے کی مالیت 14کھرب 37 ارب 20کروڑ 8لاکھ 85ہزار روپے کی سطح پر آگئی۔
مجموعی طور پر 452کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں 247کی قیمت میں اضافہ، 154کی قیمت میں کمی جبکہ 51کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی جانب سے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔