الجبیل: پی ای ایف کی جانب سےایگزیکٹوبزنس اینڈ پروفیشنل سمٹ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سعودی عرب میں پاکستانی ایگزیکٹو فورم (پی ای ایف) کی جانب سے ایگزیکٹو بزنس اینڈ پروفیشنل سمٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی کاروباری افراد سمیت سعودی اور دیگر غیر ملکی کاروباری افراد نے بھرپور شرکت کی اس موقعہ پر شرکاء کا کہنا تھا کہ الجبیل دنیا کا سب سے بڑا انڈسٹریل سٹی ہے جہاں پاکستانی کاروباری افراد نئے بزنس آئیڈیاز اور کاروباری مراسم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے صعنتی شہر الجبیل میں منعقدہ ایگزیکٹو بزنس اینڈ پروفیشنل سمٹ میں منطقہ شرقیہ کے شہروں سے تعلق رکھنے والے کاروباری پاکستانیوں سمیت ایگزیکٹو اور پروفیشنلز کی بڑی تعداد موجود تھی پروگرام کے مہمان خصوصی منصور ہاشمی تھے جبکہ سفارت خانہ پاکستان کے پریس قونصلر حسیب سلطان نے خصوصی شرکت کی، اس موقعہ پر پی ای ایف کے چیرمین منیر احمد شاد اور پروگرام کے ارگنائزر راس تنورا چیپٹر کے صدر رانا کاشف رضا سمیت دیگر کا کہنا تھا کہ الجبیل دنیا کا سب سے بڑا انڈسٹریل ایریا ہے جہاں آئل اور گیس کے ذخائر سمیت دیگر تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں جن سے پاکستانی ایگزیکٹو اور پروفیشنلز بہتر انداز سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں سمٹ کا مقصد یہی ہے کہ پاکستانی باہمی روابط کو فروغ دیں اور تجربات کی روشنی آگے بڑھیں اور ہم وطنوں کے لیے ملازمتوں کے حصول کو ممکن بنائیں جس سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے سمٹ میں جہاں بچوں نے ملی نغموں پر ٹیبلو پیش کیے وہیں پی اے ایف کی جانب سے نمایاں کارکردگی دیکھانے والوں کو اعزازی شیلڈز سے بھی نوازا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔