بریڈفورڈ میں ذوالفقار علی بھٹو کی 46ویں برسی کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی بریڈفورڈ کے زیر اہتمام سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید کی 46ویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔
اس موقع پر پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور جیالوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کا آغاز حاجی چوہدری کرامت حسین کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد برسی کی تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ پیپلز پارٹی بریڈفورڈ کے صدر آصف نسیم راٹھور کی صدارت میں ہونے والی اس تقریب کی نظامت کے فرائض پیپلز پارٹی بریڈفورڈ کے سیکرٹری جنرل چوہدری حق نواز نے انجام دیے۔
تقریب سے سابق وزیر حکومت آزاد کشمیر راجہ شوکت خالق، سابق لارڈ مئیر بریڈفورڈ راجہ غضنفر خالق، سابق لارڈ میئر بریڈفورڈ رنگزیب چوہدری، پیپلز پارٹی برطانیہ کے انفارمیشن سیکرٹری زاہد مغل، سینئر رہنما سردار عبدالرحمن خان، تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے بانی راجہ نجابت حسین، ملک رحمت اعوان اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی سیاسی، عوامی اور دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مقررین نے کہا کہ بھٹو شہید نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ کر عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ دیا، جو آج بھی پسے ہوئے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔
رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بھٹو شہید نے پاکستان کو 1973 کا متفقہ آئین دیا اور ملک کو ایک نئی سمت میں گامزن کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ملک و قوم کےلیے جو قربانیاں دی ہیں تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
رہنماؤں نے مزید کہا جب بھی قربانیوں کا ذکر ہوگا تو شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید بے نظیر بھٹو تک اس خاندان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا، کارکنوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے بانی قائد کے نظریات اور مشن کو جاری رکھے گی اور عوامی خدمت کا سفر جاری رہے گا۔
تقریب کے اختتام پر صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔ اس کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو شہید، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور دیگر مرحومین کے درجات کی بلندی کے لیے بھی خصوصی دعا کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی بھٹو شہید
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔