گورننس میں بہتری: آئی ایم ایف کا دوسرا جائزہ مشن پاکستان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
عالمی مالیاتی بینک (آئی ایم ایف) 30 پاکستانی محکموں کے ساتھ گورننس میں کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پاکستانی حکام سے مذاکرات کرے گا۔ آئی ایم ایف مشن وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر حکام سے بھی مذاکرات کرے گا۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی ادائیگی کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے 2 ماہ میں پاکستان میں گورننس میں بہتری کے لیے دوسرا مشن بھیجا ہے۔ آئی ایم ایف مشن منصوبہ بندی کمیشن، نجکاری کمیشن، آڈیٹر جنرل، نیب، ایف آئی اے، اوگرا و دیگر حکام سے بھی مذاکرات کرے گا۔
مزید پڑھیں: بجٹ برائے مالی سال 26-2025: معاملات آئی ایم ایف ہی طے کرے گا
آئی ایم ایف کا یہ وفد بینکنگ سیکٹر اور کنسٹرکشن کے شعبے میں مسابقت کا بھی جائزہ لے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک ایف بی آر پاکستان وزارت خزانہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹیٹ بینک ایف بی ا ر پاکستان ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف کرے گا
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔