پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا دوسرا روز ہے جب کہ  کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری نمائش میں دنیا بھر سے 44 ممالک کے وفود شرکت کررہے ہیں۔ 

28 بین الاقوامی اور 150 مقامی کمپنیوں سمیت 176 نمائش کنندگان ایونٹ میں شرکت کررہے ہیں، ایونٹ کے دوران شیڈول دو روزہ میری ٹائم کانفرنس کا انعقاد بھی آج سے ہوگیا۔

میری ٹائم کانفرنس کے دوران بحری امور سے متعلق عالمی ماہرین مقالے بھی پیش کریں گے، نمائش میں بردار اسلامی ملک ایران کا اسٹال سب کی توجہ کا مرکز ہے جب کہ  ترکیہ کی جانب سے بھی نمائش میں اسٹال لگایا گیا ہے۔ 

پائمک کے انعقاد کا مقصد بلیو اکانومی کو پروان چڑھانا اور بحری تجارت کو فروغ دینا ہے، پاک بحریہ پائمیک سکینڈ ایڈیشن کی سرگرمیاں جاری ہیں،  وائس چیف آف نیول اسٹاف وائس ایڈمرل راجہ رب نواز نے پائیمک اسٹالز کا دورہ کیا اور مختلف حربی آلات کا جائزہ لیا،انھیں پاکستانی ساختہ جنگی آلات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

وائس چیف آف نیول اسٹاف  راجہ رب نواز نے کہا کہ کل پائمک کا آغاز ہوا بلیو اکانومی میں استحکام لانا اس کا مقصد ہے، اکنامک فائدے لانا اور لوگوں کو اس جناب متوجہ کرنا ایونٹ کا مقصد ہے، ایران، جرمنی عمان اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک شریک ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ایڈیشن کے مقابلے میں اس بار مزید بہتری آئی ہے،  یہ جہد مسلسل ہے،  ہمارا مقصد ہر آنے والے سال پہلے سے بہتری لانا ہے، شپ میکنگ کے شعبے میں بھی بہتری آرہی ہے، اس فورم پر ایک ہی سیکٹر سے وابستہ لوگوں کو آپس میں ملنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری ٹائم افئیر منسٹری کے ساتھ مل کر ہم نے یہ شروع کیا، بی ٹو بی اور بی ٹو جی میٹنگز جاری ہیں، ہمیں بھی بعض اوقات چیلنجز آتے ہیں، نمائش ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے کہ جہاں اس سیکٹر کے لوگ اپنی پراڈکٹ ڈسپلے کرسکتے ہیں۔

وائس چیف نیول اسٹاف، راجہ رب نواز  نے کہا کہ شپ یارڈ کا قیام نہایت ضروری ہے، کراچی شپ یارڈ بہت قدیم ہے یہاں چیلنجز بھی ہیں، دنیا میں بہت بڑے شپ یارڈ ہیں، گوادر میں شپ یارڈ بنانے کا منصوبہ پائپ لائن مین ہے، امید ہے کہ چیلنجز سے نبرد آزما ہوکر بہتری کیطرف جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بڑے شپ یارڈ کی ضرورت ہے پر امید ہیں کہ اس حوالے سے مثبت تبدیلی آئے گی، نئی آنے والی ہنگور سمندری تجارت اور بحری دفاع کو مزید مؤثر بنائے گی، کراچی کا ڈیپ واٹر ٹرمینل بڑے سے بڑے شپ کو لنگر انداز کرسکتا ہے۔

بھارتی مشقوں سےمتعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گردو پیش کےتمام حالات سےبخوبی آگاہ ہیں، صورت حال کا باریک بینی سےمشاہدہ کررہےہیں، کسی بھی غیر معمولی صورت حال سےنبردآزما ہونےکےلیےمکمل تیار ییں، ہم تیار ہیں۔

کمانڈر کراچی وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے ایکسپو سینٹر میں مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ  پائمیک نمائش کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان ایک مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش ہے، پاکستان نیوی کی صلاحیتوں پر کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں نیوی کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، ہماری صلاحیتوں کے سامنے چھ گناہ بڑا دشمن بھی کوئی جارحیت کرنے کی کوشش نہ کرسکا، کے پی ٹی کے مطابق پورٹ کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے،  پورٹ جتنے زیادہ ہونگے تجارت کو فائدہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میری ٹائم شپ یارڈ کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم